امن عالم
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
سلبی یا انفعالی روش نہیں۔ پرامن نظریاتی اشاعت قرآن کی سورہ الفرقان میں اہل حق کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی تم اُن کے اوپر جہاد کرو، بڑا جہاد، قرآن کے ذریعہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن ایک کتاب ہے، ایک نظریاتی کتاب۔ وہ کوئی تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ قرآن کے افکار کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ قرآن کے پیغام کو پرامن انداز میں لوگوں کے درمیان عام کرو۔ قرآن کے نظریات کو مدلل انداز میں بیان کر کے اُس کو لوگوں کے لیے قابل قبول بناؤ۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جس چیز کو جہاد کہا گیا ہے وہ پرامن جدوجہد (peaceful struggle) ہے، اُس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ آمیز کوشش کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ محنت کرنا۔ کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کر دینا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ پرتشدد کوشش کے مقابلہ میں پرامن کوشش زیادہ عظیم ہے۔ کوئی آدمی جب متشددانہ طریقہ کار اختیار کرے تو کوشش کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ پرامن طریقہ کار اختیار کرے تو اُس کا دائرہ کار لامحدود حد تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ متشددانہ طریقہ کار میں صرف تلوار یا گن کارآمد ہے لیکن پرامن طریقہ کار میں ہر چیز آدمی کے لیے ذریعہ اور وسیلہ بن جاتی ہے، حتیٰ کہ بند کمرہ میں استعمال ہونے والا ایک قلم بھی۔ دشمن کو دوست بنانا قرآن کی سورہ فصلت میں ارشاد ہوا ہے: بھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader