Urdu book · امن عالم

حق پر صبر کے ساتھ جمنا

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں حق پرست آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے، وہ پیش آنے والی مشکلات کو اپنے اوپر سہے، وہ اُن کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے کی کوشش نہ کرے۔ صبر غیر جارحانہ طریقہ کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پرست آدمی کو چاہیے کہ وہ تشدد کے مقابلہ میں جوابی تشدد نہ کرے ۔ وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو پُر امن طریق کار کا پابند بنائے ۔ اسی روش کا دوسرا نام صبر ہے۔ حق اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی حق کو لینا چاہے تو اُس کو تشدد کو چھوڑنا پڑے گا۔ تشدد، خواہ کسی بھی عذر کی بنا پر استعمال کیا جائے، وہ تشدد ہے۔ ہر تشدد یکساں طور پر تباہ کُن ہے۔ کوئی خوب صورت صورت عذر اُس کے تباہ کن اثرات سے بچا نہیں سکتا۔ حق کے حصول کے نام پر تشدد کرنا خود حق کی نفی ہے۔ جولوگ حق کے نام پر تشدد کریں وہ اپنے بارے میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُن کا کیس حق کا کیس نہیں۔ حق پسند آدمی کبھی تشدد پسند نہیں ہوسکتا۔ جو آدمی تشدد کو پسند کرے وہ یقینی طور پر حق پسند نہیں، خواہ وہ بطورِ خود اپنے آپ کو حق کا چیمپئین کیوں نہ سمجھتا ہو۔ امن کی قیمت ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کوئی چیز آدمی کو اُسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ اُس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ ضروری قیمت ادا کیے بغیر اس دنیا میں کسی کو اپنی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ یہی معاملہ امن کا بھی ہے۔ امن کی بھی ایک قیمت ہے۔ کوئی فرد یا گروہ اُسی وقت امن کو حاصل کرسکتا ہے جب کہ وہ اس کی مطلوب قیمت ادا کرے ۔ امن کی یہ قیمت نقصان کو برداشت کرنا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی سورہ البقرہ میں اس طرح بیان کی گئی ہے : ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈرا اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (2:155-56)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page