Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37) یعنی جب اُنہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر غصہ کو معاف کرنا یا اُس کو بھلا دینا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب غصہ کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے ۔ وہ غصہ سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔ غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورت حال کو پہنچ کر سکتا ہے۔ وہ ہر معاملہ کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کو مختل کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی صورت معاملہ کو نہ تو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طور پر اُس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ ہو جائے تو فوراً وہ تشدد کی طرف جاتا ہے ۔ حالاں کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اور جو آدمی اپنے غصہ کو قابو میں رکھے، وہ مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرے گا۔ اور پُرا من حل ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔ انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بھر پور صلاحیتوں کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ مگر آدمی جب غصہ ہو جائے تو اُس کے ذہن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی ذہنی صلاحیت کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے ۔ غصہ نہ ہونا جیت ہے، اور غصہ ہونا اُس کے مقابلہ میں ہار۔ حق پر صبر کے ساتھ جمنا قرآن کی سورہ العصر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچتے ہیں اور کامیاب زندگی حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103:3) یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ جب بھی کوئی آدمی سچائی کے راستہ پر قائم ہوتا ہے یا لوگوں کو سچائی کی طرف بلاتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اُس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اُس کو لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page