Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

استعمال کر کے اپنی زندگی کی نئی تعمیر کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بُری خبر کے ساتھ ایک اچھی خبر شامل رہتی ہے۔ ہر حادثہ آدمی کو خاموش زبان میں یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تم مایوس اور بدل نہ ہو۔ بلکہ ہمت سے کام لے کر نئے مواقع کی تلاش کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو فطرت کا نظام پیشگی طور پر تم کو یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تمہاری محرومی مستقل محرومی نہیں بنے گی۔ جلد ہی تم اپنے لیے ایک نئی اور زیادہ بہتر دنیا کی تعمیر کرلوگے۔ جلد ہی تمہاری شکست ایک نئی قسم کا رہنما ثابت ہوگی۔ جو لوگ نقصان کو برداشت نہ کریں، وہ منفی سوچ کا شکار ہو کر اپنی زندگی کو ایک بوجھ بنا لیتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ صبر اور ہمت سے کام لیں وہ ماضی کے کھنڈر پر اپنے لیے ایک نیا محل تعمیر کر لیتے ہیں۔ وہ ایک شام کے بعد دوبارہ اپنے لیے ایک نئی صبح تلاش کر لیتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنا سفر سُر کے بغیر جاری رکھ سکیں۔ صلح کی پیشکش کو قبول کرنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش کی جارحیت کے نتیجہ میں، قریش اور مسلمانوں کے درمیان حالتِ جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس موقع پر جو احکام قرآن میں دیے گئے اُن میں سے ایک حکم یہ تھا: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ (8:61-62) یعنی اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن آخری حد تک مطلوب ہے۔ حتیٰ کہ اگر رسک (risk) لے کر امن قائم ہوتا ہو تو رسک لے کر بھی امن قائم کیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں تعلیم دی گئی ہے۔ حالت جنگ کے دوران اگر فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو بلا تاخیر اُس کو قبول کر لینا چاہیے۔ بالفرض اگر یہ اندیشہ ہو کہ صلح کی اس پیش کش میں کوئی دھو کہ چھپا ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page