امن عالم
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے تب بھی اس اعتماد پر فریق ثانی سے صلح کی جائے گی کہ خدا ہمیشہ امن پسندوں کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ فریب دینے والوں کے ساتھ۔ اس سے مزید یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا میں امن ہمیشہ وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو اعلیٰ حوصلہ کے مالک ہوں ۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک اور دوسرے فریق کے درمیان مسائل موجود رہتے ہیں ۔ ہمیشہ حقوق اور بے انصافی کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی لوگ امن قائم کر سکتے ہیں جو ہر دوسرے تقاضہ سے بلند ہو کر سوچیں، جو کسی بھی چیز کو عذر نہ بنائیں ۔ صرف ایسے باحوصلہ لوگ ہی دنیا میں امن قائم کرتے ہیں ۔ جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو وہ صرف لڑتے رہیں گے، وہ امن کی تاریخ نہیں بنا سکتے ۔ زیادہ بڑا رزق قرآن کی سورہ طہ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بتایا گیا ہے: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى (20:131) یعنی تم ہرگز ان چیزوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو جن کو ہم نے اُن کے کچھ گروہوں کو اُن کی آزمائش کے لیے اُنہیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ اصل یہ ہے کہ زندگی کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی مادی دنیا کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ ملک و مال میں اپنی کامیابی تلاش کرے ۔ ان چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہی مادی چیزیں ہیں جن میں چھین جھپٹ کا معاملہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے جولوگ مادیات میں جیتے ہوں وہ یکسر حق تلفی یا محرومی کے احساس کا شکار رہتے ہیں۔ یہ احساس بار بار حسد اور انتقام اور تشدد کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یافت (achievement) کے احساس میں جیتا ہو۔ ایسا آدمی اپنے آپ میں مطمئن ہوگا۔ اُس کے اندر پانے کا احساس اُس کو اس سے بچائے گا کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader