Urdu book · امن عالم

جہاد پر امن عمل کا نام ہے

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئی۔ انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھیں۔ (الاعلام للزركلی، جلد 5، صفحہ 12) ملا علی قاری کی ایک کتاب کا نام مرقاۃ المفاتیح ہے، جو مشکوۃ المصابیح کی شرح میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں ملا علی قاری کتاب الجہاد کے تحت لکھتے ہیں کہ جہاد کے لفظ میں لغوی طور پر جدوجہد اور مشقت کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ثُمَّ غَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ عَلَى قِتَالِ الْكُفَّارِ (جلد 12، صفحہ 2452)۔ یعنی پھر جہاد کا لفظ اسلام میں اہل کفر سے جنگ کے لیے استعمال ہونے لگا۔ ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا استعمالی مفہوم۔ یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ جہاد کا لفظ جہد سے نکلا ہے۔ لغوی طور پر اس کے معنی کوشش کے ہیں۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ استعمال میں یہ لفظ مختلف قسم کی جدوجہد کے لیے لکھا یا بولا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک جنگ بھی ہے، تاہم اس کا استعمال صرف اس استثنائی جنگ کے لیے خاص ہے جو فی سبیل اللہ کی گئی ہو، ملک و مال کے لیے جو جنگ کی جائے اُس کو جہاد نہیں کہا جائے گا۔ قرآن میں اس سلسلہ میں دو مختلف لفظ استعمال کیے گئے ہیں— جہاد اور قتال۔ جب پُر امن جدوجہد مراد ہو تو وہاں قرآن میں جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن کے ذریعہ پر امن دعوتی جدوجہد (الفرقان، 25: 52)۔ اور جب باقاعدہ جنگ مراد ہو تو وہاں قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً سورہ آل عمران آیت 121۔ تاہم بعد کے زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر قتال کے ہم معنیٰ لفظ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ جہاد کے لفظ کے اس استعمال کو اگر بالفرض درست مانا جائے تب بھی وہ جہاد کے لفظ کا ایک توسیعی استعمال ہوگا، نہ کہ اُس کا حقیقی استعمال۔ اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے جہاد ایک پر امن عمل کا نام ہے، نہ کہ متشددانہ عمل کا نام۔ جہاد کا عمل انسان کو ذہنی اور روحانی طور پر بدلنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کو قتل کرنے کے لیے۔ ہر حال میں امن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی حد تک ایک امن پسند آدمی تھے۔ آپ کے مخالفین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page