Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

نفرت اور تشدد سے بچتے ہوئے اپنے لیے ایک صحت مند زندگی کی تعمیر کر سکے۔ آپ کے ذریعہ دنیا میں وہ انقلاب آیا جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ٹکراؤ اور جنگ سے بچتے ہوئے انسان ایک پرامن سماج بنا سکے۔ پیغمبر اسلام کو اگر چہ مجبور کن حالات میں بعض ایسی لڑائیاں لڑنی پڑیں جو اتنی چھوٹی تھیں کہ اُن کو جنگ کے بجائے جھڑپ کہنا زیادہ صحیح ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کو بجاطور پر بغیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے امن کو مکمل نظریۂ حیات کی حیثیت دی۔ آپ نے بتایا کہ تشدد تخریب کا ذریعہ ہے اور امن تعمیر کا ذریعہ۔ آپ نے صبر کو سب سے بڑی عبادت بتایا جس کا مطلب مکمل طور پر امن کی روش پر قائم رہنا ہے۔ آپ نے فساد کو سب سے بڑا جرم بتایا جس کا مطلب فطرت کے پُر امن نظام کو درہم برہم کرنا ہے۔ آپ نے امن کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ ایک انسان کے قتل کو سارے انسانوں کے قتل کے برابر قرار دیا۔ ملاقات میں السلام علیکم کہنے کو رواج دینا، اس کا مطلب یہ تھا کہ باہمی تعلقات کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے۔ آپ نے آخرت کی کامیابی کو انسانی جدوجہد کی منزل بتایا، اس طرح آپ نے دنیوی ترقی کو نشانہ بنانے کی جڑ کاٹ دی جس کی وجہ سے ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ آپ نے انسان کے لیے بہتر زندگی کا یہ فارمولا دیا ـ لوگوں کو نفع دینے والے بنو، اور اگر تم نفع نہیں دے سکتے ہو تو لوگوں کے لیے بے ضرر (harmless) بن جاؤ۔ آپ نے بتایا کہ کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھو۔ تم دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو، پھر تم کو معلوم ہوگا کہ ہر دشمن امکانی طور پر (potentially) تمہارا دوست تھا۔ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا تھا۔ جہاد پرامن عمل کا نام ہے ملا علی قاری مشہور عالم اور فقیہ ہیں۔ اُن کا پورا نام یہ ہے: علی بن (سلطان) محمد، نورالدین الملا الہروی القاری۔ ملا علی قاری ہرات میں پیدا ہوئے۔ اُن کی وفات 1014 ھ (1606 ء) میں مکہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page