Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

پسند ہے کہ اُس نے اپنا ایک نام السلام رکھا۔ اس آیت کی تفسیر میں ابوسلیمان الخطابی نے لکھا ہے: ھُوَ الَّذِي سَلِمَ الخَلْقُ مِنْ ظُلْمِهِ (شان الدعاء للخطابی، ص41)۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں۔ لوگوں کو جس سے سلامتی کا تجربہ ہو، نہ کہ تشدد کا۔ خدا کی حیثیت اعلیٰ ترین معیار کی ہے۔ جب خدا کا برتاؤ انسانوں سے امن اور سلامتی پر مبنی ہو تو انسانوں کو بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی برتاؤ کا معاملہ کرنا چاہیئے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ امن و سلامتی کا برتاؤ کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے خلاف سختی اور تشدد کا۔ طاقتور کون ایک حدیث کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرْعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6114؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2609)۔ یعنی طاقت وہ نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ طاقتور صرف وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ غصہ کے وقت غصہ کو روکنا سلف کنٹرول (self control) کی علامت ہے۔ اور سلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسے موقع پر سلف کنٹرول آدمی کو غلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر سلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو، وہ غصہ کے وقت بھڑک اُٹھے گا، یہاں تک کہ وہ متشددانہ کارروائی کرنے لگے گا۔ غصہ کو قابو میں رکھنا امن پسند انسان کا طریقہ ہے اور غصہ کے وقت بے قابو ہو جانا تشدد پسند انسان کا طریقہ۔ ایک آدمی کی لڑائی دوسرے آدمی سے ہو اور وہ اُس کو لڑائی میں پچھاڑ دے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہلا آدمی جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔ مگر جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس شخص کا یہ حال ہو کہ اُس کے اندر غصہ بھڑک کے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کر لے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل انداز میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page