Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ کرے، ایسا آدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اُس کی یہ روش اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ ایسا آدمی اپنی دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہر جنگ کو جیت سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اُس نے ایک انسان کا بھی خون بہایا ہو۔ سماجی امن کا فارمولا سماجی امن کا فارمولا کیا ہے اور کسی سماج میں معتدل حالات کو کس طرح برقرار رکھا جاسکتا ہے، اس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الفتنة نائمة لعن الله من أيقظها ( كنز العمال، حديث نمبر 30891) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ یہ سماجی امن کا ایک فطری فارمولا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر آنا (ego) کا جذبہ موجود ہے۔ اور آنا کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو چھیڑا جائے تو وہ بہت جلد بھڑک اٹھے گا اور فساد برپا کرے گا۔ مگر فطرت نے اس جذبہ کو ہر آدمی کے سینہ میں سلا دیا ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر موجود ہے مگر تخلیقی نظام کے تحت وہ خوابیدہ حالت میں ہے۔ ایسی حالت میں کسی سماج کو پر امن سماج بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے سینے میں سوئی ہوئی انسانیت کو سو یار ہنے دیا جائے۔ سماجی امن کو وہی لوگ درہم برہم کرتے ہیں جن کی انسانیت کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ اگر انانیت کو بھڑکانے سے بچایا جائے تو سماج کا امن بھی تباہ نہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی امن کا قیام خود آپ کے اپنے بس میں ہے، نہ کہ دوسروں کے بس میں۔ آپ اپنے مثبت رویہ سے دوسروں کی آنا کو نہ چھیڑیے، اور پھر یقینی طور پر آپ اُن کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ خاموشی میں نجات حدیثوں میں مختلف انداز سے خاموشی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من صمت نجا ( سنن الترمذی، حدیث نمبر 2501،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page