سماجی امن کا فارمولا
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
سنن الدارمی، حدیث نمبر 2755؛ مسند احمد، حدیث نمبر (6481) یعنی جو شخص چپ رہا اُس نے نجات پائی۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بولنا چھوڑ دے، وہ بالکل خاموش رہے۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ آدمی خاموش رہ کر سوچے، وہ پہلے خاموش رہ کر معاملہ کو سمجھے، اس کے بعد وہ بولے۔ یہ بلاشبہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ اپنی تربیت کرکے یہ عادت ڈالے کہ وہ بولنے سے زیادہ خاموش رہے۔ وہ بولے تو اُس وقت بولے جب کہ وہ سوچنے کا کام کر چکا ہو۔ یہ تربیت اِس طرح کی جاسکتی ہے کہ روزانہ کے معمول کی بات چیت میں وہ بالقصد اپنے آپ کو اس کا عادی بنائے۔ اگر آدمی اپنی روزمرہ کی معمولی بات چیت میں یہ عادت ڈال لے تو اپنی اِس عادت کی بنا پر وہ اس وقت بھی ایسا ہی کرے گا جب کہ خلاف معمول کوئی بات پیش آ گئی ہو۔ عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ جب اُن کے سامنے کوئی بات آتی ہے تو فوری طور پر اِس کا جو جواب اُن کے ذہن میں آتا ہے، اُس کو اپنی زبان سے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوچنے کا عمل کیا جائے اور پھر اُس کے بعد بولنا شروع کیا جائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اس انجام سے بچ جائیں گے کہ وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر پچھتائیں۔ وہ اپنے کہے ہوئے بول کو لوٹنا چاہیں، حالاں کہ کسی کا کہا ہوا بول دوبارہ اِس کی طرف لوٹنے والا نہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی خلاف مزاج بات سامنے آتی ہے تو آدمی بھڑک کر ناپسندیدہ انداز میں کلام کرنے لگتا ہے۔ اِس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روزمرہ کی معمولی بات چیت میں آدمی اِس کی عادت ڈالے کہ وہ پہلے سوچے اور پھر بولے۔ جب ایسا ہوگا کہ معمول کی بات چیت میں وہ بولنے سے پہلے سوچنے کا عادی ہو جائے گا تو وہ اپنی اِس عادت کی بنا پر خلاف معمول بات چیت میں بھی اِسی طریقہ پر کار بند رہے گا۔ عام بات چیت میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولنے کی عادت اُس کو اس قابل بنا دے گی کہ وہ ہنگامی مواقع پر بھی اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولے، وہ ذہنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader