Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کی دشمنی کے باوجود تشدد اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کروں بلکہ امن کے راستہ پر اپنی زندگی کا سفر طے۔ کرتا رہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے نقشہ کے مطابق ، اس دنیا میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور تشدد کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception) کی ۔ مزید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بظاہر کوئی شخص یا گروہ آپ کا دشمن ہو تو اُس سے نمٹنے کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ اُس سے مڈ بھیڑ کی جائے ۔ زیادہ بہتر اور مؤثر شکل یہ ہے کہ امن کی تدبیر سے دشمن کے مسئلہ کا حل نکالا جائے ۔ امن کی طاقت تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں ، زیادہ کارگر بھی ہے اور زیادہ مفید بھی ۔ نان وائلنس کا طریقہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2593 ؛ سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر 4807) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ یہ دراصل فطرت کے اُس قانون کا بیان ہے جو خُدا نے موجودہ دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ اسی قانون کی بنا پر ایسا ہے کہ جب کوئی شخص نرمی اور عدم تشدد کے حدود میں رہ کر کام کرے تو اُس کا کام زیادہ نتیجہ خیز بن جاتا ہے۔ اور جو شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے اُس کا کام آگے بڑھنے کے بجائے اور پیچھے کی طرف چلا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے تو اُس کی کوششیں غیر ضروری طور پر دو محاذوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ایک محاذ، اپنی داخلی تعمیر کا۔ اور دوسرا محاذ، خارجی حریف سے لڑنے کا۔ اس کے برعکس جو شخص نرمی اور عدم تشدد کا طریقہ اختیار کرے، اُس کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام موجودہ طاقتوں کو صرف ایک محاذ، داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائے، اور اُس کے فطری نتیجہ کے طور پر زیادہ بڑی ترقی حاصل کر لے۔ اس حدیث میں فطرت کے اس قانون کا ذکر ہے جس پر ہماری دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ اسی نظام کے تحت ملتا ہے ، اس کے بغیر نہیں۔ فطرت کا یہ نظام تمام تر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page