Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

امن اور عدم تشدد کے اصول پر قائم ہے۔ اس لیے یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا، امن اور عدم تشدد کے اصول پر ملے گا، اُس سے انحراف کر کے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اختلاف کی حد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف یہ فرمایا کہ: أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ أَمِيرٍ جَائِرٍ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2174، سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4344؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4011) یعنی ظالم حکمران کے سامنے حق و عدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔ دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَصْبِرُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7143؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1849) یعنی جو شخص اپنے حاکم میں ایسی چیز دیکھے جو اُس کو پسند نہ ہو تو وہ اُس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847) یعنی تم اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارا جائے اور تمہارا مال چھین لیا جائے۔ ان حدیثوں میں بظاہر دو قسم کے احکام ہیں۔ ایک طرف یہ حکم ہے کہ تم اپنے حاکم میں کوئی غلط بات دیکھو تو کھلے طور پر اُس کا اعلان کرو۔ دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیر کے اندر تمہیں کوئی غلط بات دکھائی دے تو اُس پر صبر کرو، اگر وہ تمہارے اوپر ظلم کرے تب بھی تم اُس کو برداشت کرو۔ یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہے، اعلان اور اقدام کا فرق۔ یہ ایک مطلوب بات ہے کہ آدمی حکمراں کے اندر کوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میں اُس کا اعلان کرے۔ مگر جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کو اُس سے مکمل طور پر باز رہنا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔ نصیحت کے جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر بچے ۔ فرق کا یہ اصول بے حد اہم ہے۔ سماج میں جب بھی تشدد کا ماحول بنتا ہے، وہ اُس وقت بنتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page