Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ فوراً اس کا حل نکل آئے۔ یہی اصل غلطی ہے۔ آدمی اگر پیش آئے ہوئے مسئلہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دے تو کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔ خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بعد کے جن حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں مسلم امت دوسری قوموں کی زد میں آجائے گی۔ چنانچہ فرمایا: يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4297) یعنی قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان پر پکارتے ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ ابتداءً یورپ کی نو آبادیاتی قوموں کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد دوسری قومیں اس میں شریک ہوتی چلی گئیں ۔ اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے اُن پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے تا کہ وہ چونکیں اور اپنی اصلاح کریں۔ قرآن میں اس قانون فطرت کا ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (6:43) یعنی پس جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے۔ بلکہ اُن کے دل سخت ہو گئے۔ اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔ اس آیت میں تزئین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ ایک بُرے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا تا کہ اُس کی بُرائی چھپ جائے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page