امن عالم
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
عزت کے لیے وہ مسئلہ نہ بنے۔ وہ کسی حال میں دوسروں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ زندگی کا وہ طریقہ کیا ہے جس میں سماج کے افراد ایک دوسرے کی زیادتیوں سے محفوظ ہوں۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ شکایت کے باوجود آدمی اپنی معتدل روش کو برقرار رکھے۔ دوسروں سے شکایت کو وہ اپنے سینے میں دفن کردے، وہ اپنے سینے کی آگ کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے سے بچے ۔ اسی قسم کا سماج وہ سماج ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے مامون رہ کر زندگی گذاریں۔ پرامن سماج معیاری انسانی سماج ہے۔ اس کے برعکس جس سماج میں تشدد ہو وہ حیوانی سماج ہے، نہ کہ انسانی سماج۔ امن پسندی ایک اعلیٰ اخلاق ہے۔ اس کے مقابلہ میں تشدد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی انسانی اخلاق کی سطح سے گر کر حیوانی اخلاق کی سطح پر آگیا ہو۔ انتظار بھی حل ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أفضل العبادة انتظار الفرج (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571) یعنی کشادگی کا انتظار کرنا ایک افضل عبادت ہے۔ ہر فرد اور ہر گروہ پر ہمیشہ ایسے حالات آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو تنگی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر بیشتر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تنگی کو ایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں اور اُس کو فوراً اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے حالات سے لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ تنگی پر کچھ اور مشکلات کا اضافہ کرلیا جائے۔ تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طور پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں تنگی کے مسئلہ کا آسان حل صرف یہ ہے کہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی غیر ضروری طور پر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائے بلکہ سادہ طور پر انتظار کرو اور دیکھو (wait and see) کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کا ذہنی سکون برباد نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ اپنے آپ اپنے وقت پر ہوجائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader