امن عالم
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ۔ ریڈیکلزم کے طریقہ میں صرف موجودہ سسٹم ہی نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس عمل کے دوران وہ سماجی روایات ٹوٹ جاتی ہیں جو صدیوں کے درمیان بنی تھیں ۔ قتل وخون اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے بے شمار لوگ طرح طرح کی مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ریڈیکلزم کا طریقہ نظریاتی طور پر بظاہر خوب صورت معلوم ہوتا ہے، مگر عملی انجام کے اعتبار سے اُس میں کوئی خوبی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صورت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ صورت موجودہ (status quo) کو وقتی طور پر قبول کرتے ہوئے اُن مواقع کو استعمال کیا جائے جواب بھی موجود ہیں۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive status-quoism) کہا جا سکتا ہے۔ ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ تشدد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم سماج کے امن کو باقی رکھتے ہوئے اپنا کام انجام دیتا ہے ۔ ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ سماج میں کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر اپنا عمل انجام دیتا ہے ۔ ایک اگر بگاڑ کا راستہ ہے تو دوسرا بناؤ کا راستہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں اصلاح کا جو طریقہ اختیار کیا اُس کو ایک لفظ میں، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کہا جا سکتا ہے ۔ مثلاً اُس زمانہ میں خانہ کعبہ کے اندر 360 بُت رکھے ہوئے تھے ۔ یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ مگر قرآن کے ابتدائی دور میں اس قسم کا حکم نہیں اُترا کہ ظھر الکعبة من الاصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ اس کے بجائے اس ابتدائی دور میں قرآن میں جو آیت اُتری وہ یہ تھی: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (74:4) یعنی اپنے کپڑے کو پاک کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے اخلاق کو اور دوسروں کے اخلاق کو درست بناؤ۔ تشدد کا کوئی جواز نہیں تشدد انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ تشدد انسانیت کا قتل ہے۔ تشدد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے ۔ اس کے باوجود لوگ کیوں تشدد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ایسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader