Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ خود ساختہ طور پر اپنے لیے تشدد کا ایک جواز (justification) ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بطور خود یہ خیال قائم کر لیتے ہیں کہ فلاں وجہ سے اُن کے لیے تشدد کرنا جائز ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تشدد کا ہر جواز جھوٹا جواز ہے۔ کوئی فرد یا گروہ جب بھی تشدد کرتا ہے، عین اُسی وقت اُس کے لیے عدم تشدد یا پر امن طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدد کیوں۔ جب تشدد کے بغیر عمل کرنے کا موقع موجود ہو تو تشدد کیوں کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد مطلق طور پر قابل ترک ہے اور امن مطلق طور پر قابل اختیار۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد نہ کرے، وہ ہر صورت حال میں پر امن طریق عمل پر قائم رہے۔ عداوت کے مسئلہ کا حل بہت سے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے۔ پھر اس مفروضہ کے تحت وہ اُس قوم کے خلاف متشددانہ لڑائی چھیر دیتے ہیں تا کہ اُس کی دشمنی کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ مگر یہ مفروضہ بھی غلط ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر بنایا جانے والا نقشہ کار بھی غلط۔ دشمنی ہاتھ کی انگلی کی طرح انسانی وجود کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ وہ انسانی وجود کا ایک اوپری حصہ ہے۔ مثبت تدبیر کے ذریعہ ہر دشمنی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ دشمنی کی مثال ایسی ہے جیسے گلاس کے اوپر لگی ہوئی مٹی۔ ایسی مٹی کو نہایت آسانی کے ساتھ پانی سے دھو کر صاف کیا جا سکتا ہے۔ گویا کہ گلاس میں مٹی کا لگنا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مٹی کو دھونے کے لیے صاف پانی نہ ہو۔ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے کبھی تالی نہیں بجتی۔ اسی طرح دشمنی ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کا دشمن بنے تو آپ خود اُس کے دشمن نہ بنیں۔ اس کے بعد دشمنی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ دشمن کے ساتھ دشمنی نہ کرنا ہی دشمنی کے مسئلہ کا سب سے زیادہ کارگر عمل ہے۔ ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا گھر شہر کے ایک ایسے کنارہ پر ہے جہاں سے غیر قوم کی آبادی شروع ہو جاتی ہے۔ میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page