Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال نہیں ۔ حتی کہ اگر پُر امن طریق کار کا نتیجہ بظاہر شکست کی صورت میں نکلے تب بھی وہ فتح ہے۔ اس لیے کہ پُر امن طریق کار کی صورت میں آدمی جنگ کو کھوتا ہے مگر وہ مواقع کو نہیں کھوتا۔ مواقع اور امکانات اب بھی اُس کے پاس موجود ہوتے ہیں ۔ وہ ان مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ ایک نئی جدوجہد شروع کر سکتا ہے اور از سر نو اپنی کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ شکایت کو فوراً ختم کرنا شکایتی مزاج ایک قاتلانہ مزاج ہے۔ شکایتی مزاج آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو مثبت سوچ سے محروم کر دیتا ہے۔ اور اس قسم کا مزاج بلا شبہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اکثر تشدد کے پیچھے شکایتی مزاج ہی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ موجودہ دنیا کا تخلیقی نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ شکایت کا خیال آتے ہی فوراً اُس کو اپنے دماغ سے نکال دیا جائے ۔ شکایت جب پیدا ہوتی ہے تو پہلے وہ آدمی کے شعوری ذہن (conscious mind) میں ہوتی ہے۔ اگر اُس کو یاد رکھا جائے یا بار بار دہرایا جائے تو وہ دھیرے دھیرے آدمی کے غیر شعوری ذہن (unconscious mind) میں چلی جاتی ہے ۔ اور اس طرح بیٹھ جاتی ہے کہ اس کے بعد کسی طرح اُس کو نکالا نہیں جا سکتا۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ شکایت کے معاملے میں وہ ’’گُر بہ کشتن روز اول‘‘ کا معاملہ کیا جائے ۔ شکایت پیدا ہوتے ہی اس کو فوراً ختم کر دیا جائے ۔ اگر پہلے ہی مرحلہ میں اُس کو ختم نہ کیا جائے تو دھیرے دھیرے وہ آدمی کی نفسیات کا مستقل جزء بن جائے گی ۔ اس کے بعد آدمی کی سوچ منفی سوچ بن جائے گی ۔ وہ دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ اگر موقع ہو تو وہ دوسروں کے خلاف تشدد پر اُتر آئے گا ۔ یہاں تک کہ وہ زیر شکایت لوگوں سے عملی ٹکراؤ شروع کر دے گیا، خواہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں کیوں نہ ظاہر ہو۔ شکایت کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کرنے کا فارمولا کیا ہے، وہ فارمولا قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (42:30) یعنی جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page