امن عالم
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
گھر جا کر دونوں کے کاغذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انہوں نے صدفی صد مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (ایگو) کو جگا دیتے۔ اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انہوں نے گن کے بجائے معقولیت کا استعمال کیا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوامہ (ضمیر) جاگ اُٹھا۔ اور جب ضمیر جاگ اُٹھے تو اُس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ فتح بھی شکست ہے شاہ پائرس (King Pyrrhus) تیسری صدی قبل مسیح کا ایک یونانی بادشاہ تھا۔ اُس کی لڑائی رومیوں سے ہوئی۔ اس جنگ میں آخر کار شاہ پائرس کو رومیوں کے اوپر فتح حاصل ہوئی۔ مگر لڑائی کے دوران شاہ پائرس کی فوج اور اُس کے ملک کی اقتصادیات بالکل تباہ ہو چکی تھی۔ شاہ پائرس کے لیے یہ بظاہر فتح تھی مگر وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے شکست کے ہم معنی تھی۔ اس تاریخی واقعہ کی بنا پر ایک اصطلاح مشہور ہوئی ہے جس کو پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے، یعنی بظاہر فتح مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل شکست۔ جنگوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اکثر فتح پر ک فتح ہی ہوتی ہے۔ ہر فاتح کے حصہ میں دو نقصان کا پیش آنا لازمی ہے۔ ایک، جان اور مال کی تباہی۔ دوسرے، مفتوح کے دل میں فاتح کے خلاف نفرت۔ کوئی بھی فاتح ان نقصانات سے بچ نہیں سکتا۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ کوئی فاتح اس نقصان کو فوراً بھگتتا ہے، اور کسی فاتح کے حصہ میں یہ نقصان کسی قدر دیر کے بعد آتا ہے۔ نقصان کا یہ معاملہ صرف پر تشدد طریقہ کار کے ساتھ وابستہ ہے۔ پر امن طریق کار کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ پر امن طریق کار میں صرف فتح ہے، پر امن طریق کار میں شکست کا کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader