جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ اور امن اسلام میں اسلام میں جنگ اور امن کی حیثیت کیا ہے، اس سوال کا جواب پانے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں دو مختلف طریق کار ہیں، وہ بذاتِ خود مقصد نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہو جائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کا طریقہ ہے یا امن کا طریقہ۔ قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی اے محمد، لوگوں کے ساتھ تم قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ قرآن ایک کتاب ہے، وہ کوئی گن یا تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طور پر پر امن جدوجہد (peaceful struggle) ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد (armed _struggle) قرآن جب ایک نظریاتی کتاب ہے تو اس کے ذریعہ پر امن جدوجہد کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کو بدلا جائے۔ لوگوں کی سوچ کو قرآنی سوچ بنایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، قرآن کا مشن زمین پر قبضہ کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کے ذہن پر قبضہ کرنا ہے۔ اسلام کا نشانہ ذہنی انقلاب ہے، نہ کہ لوگوں کو جسمانی اعتبار سے مغلوب کرنا۔ قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کو کس طرح جاری کیا تو واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا پورا مشن جس نشانہ پر چلایا وہ یہی تھا کہ لوگوں کے دل و دماغ کو بدلا جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر پر اپنا کلام اس لیے اتارا تا کہ وہ لوگوں کو افکار کے اندھیرے سے نکال کر افکار کی روشنی میں لے آئے (الحدید، 9: 57)۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کی اصلاح کے سلسلہ میں اصل اہمیت صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader