جنگ اور امن اسلام میں
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک چیز کی ہے اور وہ اس کے دل کی اصلاح ہے (ألا وهي القلب) صحیح البخاری، حدیث نمبر 52؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1599۔ انسان کے دل کو بدل دو اور پھر اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ پیغمبر اسلام کو مکہ میں جب پہلی وحی ملی تو اس وقت آپ نے وہاں کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اے لوگو، میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ موت کے بعد آنے والے معاملے کی تمہیں خبر دوں (أنا النذير العريان)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4770؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 208۔ اسی طرح مدینہ میں جب آپ غالب حیثیت میں داخل ہوئے اس وقت بھی آپ نے وہاں کے لوگوں سے یہی کہا کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ خواہ چھوہارے کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو (اتقوا النار ولو بشق تمرة)۔ سیرة ابن ہشام، جلد 1، ص 501 قرآن اور سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ انسان کے ذہن کو بدلنا ہے۔ یہی اسلامی مشن کا اول بھی ہے اور یہی اس کا آخر بھی۔ مگر دنیا میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور خود تخلیقی نقشہ کے مطابق، ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسی آزادی کی بنا پر ایسا ہوا کہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گئے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ اس آخری حد تک گئے کہ انہوں نے آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کی بنا پر پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو اپنے دفاع میں وقتی طور پر ہتھیار اٹھانا پڑا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception) کی۔ پیغمبر اسلام کی پیغمبرانہ عمر 23 سال ہے۔ اس 23 سال میں قرآن وقفہ وقفہ سے حسب حالات اترتا رہا۔ اس اعتبار سے اگر مدت کی تقسیم کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کا ایک حصہ وہ ہے جو تقریباً 20 سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو مجموعی طور پر تقریباً تین سال پر مشتمل ہے۔ 20 سالہ مدت میں قرآن میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں، مثلاً عقیدہ، عبادت، اخلاق، انصاف، انسانیت، وغیرہ۔ جہاں تک جنگ کی آیتوں کا تعلق ہے، وہ صرف تین سال کی اس مدت میں اتاری گئیں جب کہ اہل اسلام کو عملاً مسلح جارحیت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader