تشدد کا اسلامائزیشن
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
اس عقیدہ کے مطابق، انقلاب صرف اس طرح آ سکتا تھا کہ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو متشددانہ طور پر مٹا دے۔ اس عقیدہ کے تحت ان لوگوں نے مختلف ملکوں میں پچاس ملین سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نظریاتی قتل کی دوسری زیادہ بھیا نک مثال وہ ہے جو مسلم دنیا میں ظہور میں آئی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں اس انتہا پسندانہ نظریہ کو فروغ حاصل ہوا۔ اس نظریہ کو وضع کرنے اور پھیلانے میں موجودہ زمانہ کی دو مسلم جماعتیں خاص طور پر ذمہ دار ہیں—عرب دنیا میں الاخوان المسلمون، اور غیر عرب دنیا میں جماعت اسلامی۔ الاخوان المسلمون نے اپنے مخصوص نظریہ کے تحت یہ نعرہ اختیار کیا: القرآن دستورنا والجھاد منھجنا یعنی قرآن ہمارا آئین ہے اور جہاد (متشددانہ طریق کار) کے ذریعہ ہمیں اس کو ساری دنیا میں نافذ کرنا ہے۔ عرب دنیا میں یہ نعرہ اتنا مقبول ہوا کہ سڑکوں پر یہ نغمہ سنائی دینے لگا: ھلم نقاتل ھلم نقاتل فإِن القتال سبيل الرشاد فلسطین سے لے کر افغانستان تک اور چیچنیا اور بوسنیا تک جہاں جہاں اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کیا گیا وہ سب اسی نظریہ کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے یہ نظریہ بنایا کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں جو نظام رائج ہے وہ طاغوتی نظام ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو مٹائے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کو نافذ کرے۔ یہ کام اتنا ضروری ہے کہ اگر وہ فہمائش کے ذریعہ پورا نہ ہو تو اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ تشدد کی طاقت کو استعمال کر کے اہل طاغوت سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں اور اسلامی قانون کی حکومت ساری دنیا میں نافذ کر دیں۔ پاکستان اور کشمیر جیسے مقامات پر اسلام کے نام سے جو تشدد ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر اسی خود ساختہ نظریہ کا نتیجہ ہے۔ 11 ستمبر 2001ء سے پہلے اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد دنیا کے مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے جو بھیانک تشدد ہوا یا ہو رہا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انہی دونوں نام نہاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader