تشدد کا اسلامائزیشن
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
انقلابی تحریکوں کا نتیجہ ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے بانیوں کی غلط فکری کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ انہوں نے جماعت اور اسٹیٹ کے فرق کو نہیں سمجھا۔ جو کام صرف ایک منظم اسٹیٹ کی ذمہ داری تھی اس کو انہوں نے اپنی بنائی ہوئی جماعت کی ذمہ داری سمجھ لیا۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، جہاد بمعنی قتال اور اجتماعی شریعت کا نفاذ جیسا کام مکمل طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان مقاصد کے لیے جماعت بنا کر ہنگامہ آرائی کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ اسلام میں جماعت کے جو حدود کار ہیں وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ارشاد ہوا ہے: اور چاہیے کہ تم میں ایک جماعت ہو جو خیر کی طرف بلائے اور معروف کا حکم کرے اور منکر سے منع کرے، یہی لوگ فلاح کو پہنچنے والے ہیں (آل عمران، 3:104)۔ اس قرآنی ارشاد کے مطابق، غیر اہل حکومت کے لیے جماعت بنانا صرف دو مقصد کے لیے جائز ہے۔ ایک، پرامن دعوت خیر، اور دوسرے، پرامن نصیحت اور تلقین۔ دعوت خیر سے مراد غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور امر بالمعروف، نہی عن المنکر سے مراد مسلمانوں کے اندر نا صحانہ ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی ہنگامہ آرائی کے لیے جماعت بنانا سراسر بدعت اور ضلالت ہے جس کا کوئی جواز اسلام میں نہیں۔ نیز واضح ہو کہ قرآن میں جماعت سے مراد گروہ ہے، نہ کہ پارٹی۔ اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے بانیوں نے جو خود ساختہ نظریہ سازی کی وہ شریعت کے بھی خلاف تھی اور فطرت کے بھی خلاف۔ اس قسم کی غیر فطری نظریہ سازی ہمیشہ تشدد سے شروع ہوتی ہے اور منافقت پر ختم ہوتی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں جب تک اپنے رومانی تصورات کا جنون ہوتا ہے وہ اپنے مفروضہ انقلاب کے لیے اتنے دیوانے ہو جاتے ہیں کہ استشہاد کے نام پر خود کش بمباری کو بھی جائز قرار دے لیتے ہیں۔ مگر جب حقائق کی چٹان ان کے جنون کو ٹھنڈا کر دیتی ہے تو اس کے بعد وہ منافقانہ روش اختیار کر لیتے ہیں۔ یعنی فکری اور اعتقادی اعتبار سے بدستور اپنے سابق نظریہ کو ماننا، مگر عملی اعتبار سے مکمل ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کر کے اپنے دنیوی مفادات کو محفوظ کر لینا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader