Urdu book · عقلیات اسلام

حقیقت کی تلاش

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

آنے والی کائنات اور اس کے اندر انسان جیسی ایک مخلوق کا موجود ہونا اس قدر حیران کن ہے کہ انسان اس کی ماہیت کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کوئی بھی دوسری چیز اس کو اس سوال سے بے نیاز کرنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ بڑی بڑی مادی ترقیاں بھی۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ ایک لامحدود کائنات میں ہے۔ اس کائنات میں تقریباً ایک کھرب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں لگ بھگ ایک کھرب بہت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ اور ہر ستارہ دوسرے ستارے سے اتنا زیادہ فاصلہ پر ہے جیسے بحر الکاہل کے لق و دق سمندر میں چند کشتیاں ایک دوسرے سے بہت دور دور تیر رہی ہوں۔ عظیم کائنات میں پھیلے ہوئے ستاروں کی یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر ستارہ کا کوئی یک لفظی نام رکھا جائے اور کوئی ان ناموں کو بولنا شروع کرے تو صرف تمام ناموں کو دہرانے کے لیے 300 کھرب سال کی مدت درکار ہوگی (پلین ٹرٹھ، جنوری 1981ء)۔ اس ناقابل قیاس حد تک عظیم کائنات میں انسان سب سے زیادہ حقیر مخلوق ہے۔ وہ کائناتی نقشہ میں ان چھوٹے جزیروں سے بھی کم ہے جو بہت چھوٹے ہونے کی وجہ سے عام طور پر دنیا کے نقشوں میں دکھائی نہیں دیتے۔ یہ انسان اپنے تمام چھوٹے پن کے باوجود کائنات کے فاصلوں کو ناپ رہا ہے۔ وہ طبیعیاتی ذروں سے لے کر کہکشانی نظاموں تک کی تحقیق کر رہا ہے۔ وہ ایک ایسا ذہن رکھتا ہے جو ماضی اور مستقبل کا تصور کر سکے ۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے اور بالآخر اس عجیب و غریب ڈرامے کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ سوالات ہر سوچنے والے انسان کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ وہ ان کی حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مگر انسان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب دور بینی مشاہدات اور لیبارٹری کے تجربات میں ڈھونڈ رہا ہے۔ حالاں کہ ان سوالات کا جواب پیغمبر کے الہام کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page