حقیقت کی تلاش
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کائنات میں اتنی زیادہ دنیا ئیں ہوں کہ صرف ان کا نام لینے کے لیے تین سو کھرب سال سے زیادہ مدت درکار ہو، اس کی حقیقت کو وہ انسان کیوں دریافت کر سکتا ہے جو پچاس سال یا سو سال زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق ہی اس راز کو کھول سکتا ہے اور اسی نے پیغمبر کے ذریعہ اس کو کھولا ہے۔ البرٹ آئن سٹائن (1955-1879ء) نے زمان و مکان کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا تھا۔ اس نے اس کو غیر معمولی شہرت دی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آئن سٹائن کی سائنسی قیمت حقیقت اس سے کم تھی جتنی اس کو شہرت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی ایک تو جبیہ یہ کی گئی ہے کہ آئن سٹائن کی تحقیقات کا تعلق کائنات کی ابدی حقیقتوں سے تھا اور جو آدمی کائنات کی ابدی حقیقتوں میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے وہ لوگوں کی نظر میں خصوصی اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔ ایک مبصر نے لکھا ہے: Whoever finds that which enables us to obtain a deeper a glimpse into the eternal secrets of nature has been given great grace. That was the grace of Albert Einstein's unique greatness—to try to find such thoughts. (The Hindustan Times, March 15, 1981) جو شخص کوئی ایسی دریافت کرتا ہے جو ہم کو اس قابل بنائے کہ ہم فطرت کے رازوں کی کوئی گہری جھلک دیکھ سکیں، اس کو بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کو جو خصوصی عزت ملی وہ اسی لیے تھی کہ اس نے اس قسم کے افکار تک پہنچنے کی کوشش کی۔ کائنات کی ابدی حقیقتوں کو جاننے کی خواہش انسان کی فطرت میں اس طرح سمائی ہوئی ہے کہ وہ کسی طرح اپنے کو اس سے الگ نہیں کر سکتا۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان فطرت کے ابدی رازوں کی کھوج میں رہا ہے مگر ابھی تک وہ ان کو پا نہ سکا۔ انسان اگر اپنی ذاتی کوششوں سے اس حقیقت تک نہیں پہنچا تو وہ اس کے لیے معذور تھا۔ اس کی محدودیت اس کی راہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader