عقلیات اسلام
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
اک طرف علم الانسان نے اس مفروضہ کو مکمل طور پر غلط ثابت کر دیا ہے کہ مذہب انسانی نفسیات یا انسانی سماج کی پیداوار ہے۔ دوسری طرف سائنس، الفاظ دیگر، علوم قطعیہ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ ایسی معلومات سامنے آتی جارہی ہیں۔ اگر چہ براہ راست نہیں تاہم بالواسطہ طور پر، یہ ثابت کر رہی ہیں کہ انسان اور کائنات کی حقیقت کے بارے میں وہی نقطہ نظر صحیح ہے جو مذہب ہمیں دیتا ہے۔ بالواسطہ اعتراف ڈاکٹر سبرامنیم چندر شیکھر (1995-1910) ایک مشہور سائنس داں ہیں۔ ایک انٹرویو کے درمیان انھوں نے کہا کہ میں خدا میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ میں ایک ملحد انسان (atheist) ہوں۔ تاہم اسی کے ساتھ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو بالواسطہ انداز میں خدا کے وجود کے اقرار کے ہم معنی ہے (ہندوستان ٹائمس، 31 مئی 1987ء)۔ کائنات میں کچھ ایسے پہلو ہیں جو انتہائی حد تک سمجھ سے باہر ہیں۔ آئن سٹائن، شروڈنگر اور دوسرے کئی لوگوں نے کہا ہے کہ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے۔ کیوں کر ایسا ہے کہ انسانی دماغ جو کائنات کے لحاظ سے بہت ہی چھوٹا ہے اور فلکیاتی وقت کے مقابلہ میں جس کی زندگی کا وقفہ بے حد کم ہے، وہ خیالات میں حقیقت کو سمجھ پاتا ہے جو کہ انسانی دماغ سے نکلتے ہیں۔ اس سوال نے کیپلر سے لے کر آج تک بہت سے لوگوں کو پریشان رکھا ہے۔ ریاضیاتی بیان میں صحت کیوں پائی جاتی ہے۔ ریاضیات ایک ایسی چیز ہے جس کو انسانی دماغ نے بنایا ہے۔ پھر وہ خارجی فطرت پر چسپاں کیوں ہو جاتی ہے۔ ان سوالوں کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات منظم ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ منظم کی گئی ہو۔ مگر کیوں ایسا ہے کہ ہم کائنات کو ایسی اصطلاحوں میں سمجھ پاتے ہیں جن کو ہم نے خود بنایا ہے: There are aspects (in the world) which are extremely difficult to understand. A famous remark of Einstein —and

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader