مذھب انسانی تخلیق نہیں
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی پرانا ہے جتنا انسانی غور وفکر کی تاریخ پرانی ہے تو وہ اتنے بعید ماضی سے تعلق رکھتا ہے کہ یہ بظاہر ناممکن ہے کہ اس کے آغاز کی بابت کوئی مسلمہ شہادت مل سکے۔ رومانی محقق (Mircea Eliada) کے الفاظ میں "موجودہ زمانہ کے مورخین مذہب جانتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ مذہب کی ابتدائی شکل کو معلوم کیا جا سکے۔“ ماضی میں مذہب کے محققین کا یہ گمان تھا کہ اگر یہ ثابت کیا جا سکے کہ مذہب کا آغاز کچھ وہی تصورات سے ہوا تو بعد کی ترقی یافتہ مذہبی شکلوں کو بھی بے بنیاد ثابت کیا جا سکتا ہے۔ مگر اب علمی طور پر اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مذہب کو نفسیاتی فریب (Psychological Illusion) یا سماجی فریب (Sociological Illusion) ثابت کرنے کا خواب بے تعبیر ہو چکا ہے۔ اب یہ ذہن پیدا ہو رہا ہے کہ مذہب، جیسا کچھ آج ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے، نہ کہ اس کی ابتدائی صورتوں کو دریافت کرنے کی لاحاصل کوشش میں وقت ضائع کیا جائے۔ مذہبی ارتقاء کی ابتدائی شکل دریافت کرنے کا ذہن ڈارونزم کے بعد پیدا ہوا تھا۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ وحشی قبائل جو آج بھی جنگلوں میں پائے جاتے ہیں وہ ابتدائی دور“ کے انسان کی باقیات ہیں اور مہذب سماج میں رہنے والے لوگ ترقی یافتہ دور کے انسان۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وحشی قبائل میں مذہب کا جو تصور پایا جائے وہ ابتدائی مذہب کو بتا رہا ہے اور مہذب سماج میں جو مذہب ہے وہ مذہب کی ترقی یافتہ شکل کو بتاتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ بہت جلدی میں قائم کر لیا گیا جب کہ حقائق اس کی تردید کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر ایسے ابتدائی قبائل ہیں جن میں ایک برتر خدا کا عقیدہ موجود ہے جبکہ بدھ مت کو ماننے والے بہت سے ترقی یافتہ لوگ خدا کو نہیں مانتے۔ Geoffrey Parrinder, Essay in 'Man and his Gods. Encyclopedia of the World's Religions, London, 1974

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader