مذھب کی طرف واپسی
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب کی طرف واپسی امریکہ کے ٹائم میگزین (18 اپریل 1966ء) کی کور اسٹوری (خصوصی مضمون) کا عنوان تھا ”کیا خدا مر چکا ہے“۔ یہ 20 سال پہلے کی بات تھی۔ اب خود مغربی دنیا میں ایسی کتابیں اور مضامین مسلسل شائع ہو رہے ہیں جن کا عنوان اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ماہنامہ اسپان (دسمبر 1984ء) میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں ”مذہب کی طرف واپسی“۔ یہ رپورٹ الرسالہ کے انگریزی ایڈیشن میں نقل کی جا رہی ہے۔ اس کا خلاصہ یہاں مقابل کے صفحہ پر درج ہے۔ اس کے مطابق امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں مختصر وقفہ کے بعد مذہب از سر نو زندہ ہو رہا ہے۔ کالجوں میں دینیات کی کلاس جو پہلے خالی رہتی تھی اب بھری رہتی ہے۔ چرچ اور سینیکاگ (یہودی عبادت خانہ) میں جانے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ مذہبی لٹریچر پڑھنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مذہب کے نام پر کانفرنسیں کثرت سے منعقد کی جا رہی ہیں۔ ایک پروفیسر کے الفاظ میں، یہاں مذہب میں دلچسپی کا حیرت ناک احیاء ہوا ہے۔ ایک مغربی دانشور جس نے 1965ء میں ”سیکولر شہر“ نامی کتاب میں بتایا تھا کہ لوگوں نے مقدس چیزوں میں اپنی دلچسپی کھودی ہے، اب وہ اپنی دوسری کتاب ”سیکولر دنیا میں مذہب“ میں دکھا رہا ہے کہ مذہب میں لوگوں کی دلچسپی از سر نو بحال ہو گئی ہے۔ دانشور طبقہ جو عرصہ سے شک کی بنا پر مذہب کو نظر انداز کئے ہوئے تھا وہ مذہب کی طرف دوبارہ دیکھنے لگا ہے۔ ڈینیل بل نے لکھا ہے کہ 18 ویں صدی کے آخر سے لے کر 19 ویں صدی کے نصف تک تقریباً ہر ترقی پسند مفکر یہ خیال کرتا تھا کہ مذہب 20 ویں صدی میں ختم ہو جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader