Urdu book · عقلیات اسلام

سائنس توحید کی طرف

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

مدار تمام تر اتفاق پر ہے۔ اس مظہر کی توجیہہ کے لیے ایٹم میں جو پر اسرار طاقت فرض کی گئی ہے اسی کا نام کمزور نیوکلیئر فورس ہے۔ سائنس داں یہ یقین کرتے ہیں کہ انہیں چار طاقتوں کے تعامل (interactions) سے کائنات کے تمام واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ مگر سائنس عین اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ وحدت کی کھوج میں رہتی ہے۔ کائنات کا سائنسی مشاہدہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات انتہائی ہم آہنگ ہو کر چل رہی ہے۔ یہ حیرت ناک ہم آہنگی اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک قانون ہے جو فطرت کے پورے نظام میں کار فرما ہے۔ چنانچہ طبیعیات مستقل طور پر ایک متحدہ اصول (unified theory) کی تلاش میں ہے۔ سائنس کا ضمیر متواتر اس جد و جہد میں رہتا ہے کہ وہ قوانین فطرت کی تعداد کو کم کرے اور کوئی ایک ایسا اصول فطرت (principle) دریافت کرے جو تمام واقعات کی توجیہہ کرنے والا ہو۔ آئن سٹائن نے مذکورہ قوانین میں سے پہلے دو قوانین کشش اور برقی مقناطیسیت کے اتحاد (unification) کی کوشش کی اور اس میں 25 سال سے زیادہ مدت تک لگا رہا مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے کچھ پہلے اس نے اپنے لڑکے سے کہا تھا: میری تمنا تھی کہ میں اور زیادہ ریاضی جانتا تا کہ اس مسئلہ کو حل کر لیتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام (پیدائش 1926ء) اور دوسرے دو امریکی سائنس دانوں (گلاسگو اور وین برگ) کو 1979ء میں طبیعیات کا جو مشترکہ نوبل انعام ملا ہے وہ ان کی اسی قسم کی ایک تحقیق پر ہے۔ انہوں نے مذکورہ قوانین فطرت میں سے آخری دو قانون (طاقتور اور کمزور نیوکلیئر فورس) کو ایک واحد ریاضیاتی سکیم میں متحد کر دیا۔ اس نظریہ کا نام جی ایس ڈبلیو نظریہ (G.S.W Theory) رکھا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ انھوں نے ثابت کیا ہے کہ دونوں قوانین اصلاً ایک ہیں۔ اس طرح انھوں نے چار کی تعداد کو گھٹا کر تین تک پہنچادیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دریافت کا بڑا سہرا ڈاکٹر عبدالسلام کے سر ہے، مگر ان کو تنہا انعام نہ ملنا در اصل ان کی اس پسماندگی کی قیمت ہے کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں جو اس قسم کی کسی تحقیق کا ساز و سامان اپنے پاس نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page