Urdu book · عقلیات اسلام

ارتقاء کی پیمائش ہم کیسے کریں

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ بہت سال پہلے راجر اسپری نے تجربہ کر کے دکھایا تھا کہ اگر ایک دریائی چھپکلی کی آنکھ اس طرح نکالی جائے کہ اس کی نظر کی نس آنکھ سے دماغ تک ٹوٹ جائے۔ اس کے بعد اگر اس کی آنکھ کو دوبارہ الٹ کر بھی لگا دیا جائے تو نظر کی نس آنکھ کے پردے سے دوبارہ شروع ہو کر دماغ کی طرف بڑھے گی اور دوبارہ اس سے جڑ جائے گی۔ کچھ عرصہ کے بعد جانور اس آنکھ سے دوبارہ دیکھ سکتا تھا۔ مگر ہمیشہ الٹی شکل میں (کیوں کہ آنکھ الٹی لگی ہوئی تھی)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نیا تعلق بالکل درست تھا۔ بجز اس کے کہ آنکھ کو یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الٹی لگی ہوئی ہے۔ یہ نتائج بتا رہے ہیں کہ اعصاب کے ایک نظام کو اعصاب کے دوسرے نظام سے ٹھیک ٹھیک مربوط کرنے کے لیے بہت ہی درست اور پیچیدہ طریقے کار فرما ہوتے ہیں۔ مگر یہ طریق عمل کیا ہے، اس کو ہم متعین طور پر نہیں جانتے۔ (دوسرے لفظوں میں خود یہ واقعہ کی آنکھ کی الٹی لگی تھی، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ رابطے کس قدر متعین ہوتے ہیں)۔ 8۔ کوانٹم نظریہ کیا کشش کے نظریہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے سر ہرمین بوندی، چیف سائنٹسٹ، شعبہ انرجی : اگر ہم آئن سٹائن کے مقبولِ عام نظریہِ کشش کو مانیں تو کسی مقناطیسی میدان کے مرکز میں یکا یک تبدیلی (مثلاً دوستاروں میں جوایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہوں) سے ایسا ہونا چاہیے کہ کشش کی لہریں روشنی کی سی رفتار سے پیدا ہوں۔ ریڈی ایشن کی دوسری تمام صورتیں ’’کوانٹم‘‘ کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل نہیں ہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی مقداروں کی شکل میں غیر مسلسل طور پر آتی ہیں۔ یہ بات بمشکل قابل فہم ہے کہ کشش کی لہریں مقداروں کی شکل میں نہیں ہوتیں۔ مگر ابھی تک کوئی اس بات کو ثابت نہیں کر سکا ہے، حالاں کہ بہت سے لوگ اس کی کوشش کر چکے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page