عقلیات اسلام
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ خود اس کا وجود ہی کیوں ہے۔ بے ریڑھ کے جانور اس کے بغیر بھی اچھی طرح گزر کر لیتے ہیں۔ مگر ریڑھ دار حیوانات میں یہ نظام ناقابل یقین حد تک پیچیدگی کے ساتھ شامل ہے۔ پچھلے دس سالوں سے اس خیال کو مقبولیت حاصل ہورہی ہے کہ اس نظام کی ضرورت اس لیے تھی کہ خلیہ کی سطح میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں جو سرطان کا سبب بن سکتی ہیں، ان کا پتہ لگایا جا سکے، مگر بہت سی حالیہ دریافتیں اس کی تائید کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ 6- ارتقاء کی پیمائش ہم کیسے کریں جان میز ڈ سمتھ، پروفیسر حیاتیات، سیسکس یونیورسٹی کا خیال ہے کہ ارتقاء کا نظریہ ایک ناقابل حل اندرونی مسئلہ سے دو چار ہے۔ نظریہ ارتقاء کے تین حقیقی اجزاء ہیں: تغیر (جین میں تبدیلی کا واقع ہونا)۔ انتخاب (فرق کا باقی رہنا یا مختلف اقسام کی زرخیزی)۔ نقل مکانی یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک، اکثر حالات میں ناقابل پیمائش حد تک نچلی سطح پر، ارتقاء کے عمل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ہم تین طریقوں سے واقف ہیں جن کے متعلق ہمارا یقین ہے کہ وہ ارتقاء کے عمل کا تعین کرتے ہیں۔ پھر ہمارے پاس ایک ریاضیاتی نظریہ ہے جو ہم کو بتاتا ہے کہ یہ تینوں طریقے ایسی سطحوں پر اپنا اثر ڈالتے ہیں جن کی بالواسطہ پیمائش کی ہم امید نہیں رکھتے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے پاس برقی مقناطیسیت کا ایک نظریہ تو ہو مگر ہمارے پاس نہ تو برقی لہروں کو ناپنے کا کوئی ذریعہ ہو اور نہ مقناطیسی زور کو ناپنے کا۔ 7- نظام عصبی کس طرح بنتا ہے فرانس کر یک، سالک انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا: حیاتیاتی ترقیات میں شاید سب سے بڑا علمی چیلنج یہ سوال ہے کہ ایک جاندار میں عصبی نظام کی تشکیل کس طرح ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader