قرآن اور سائنس
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
کے علاوہ ڈاکٹرٹی وی این پرشاد اور ڈاکٹر مارشل جانسن بھی مدعو عین میں شامل تھے۔ ڈاکٹر مور کہتے ہیں کہ اس موقع پر منعقدہ کانفرنس کے علماء نے ان چاروں ماہرین کو قرآن کی متعدد آیات کے انگریزی میں تراجم پیش کیے اور ان سے رائے مانگی کہ آیا ان کی کوئی سائنسی تعبیر ہوسکتی ہے؟ ایک آیت جو پیش کی گئی وہ تھی: "وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے" (39:6) ۔ ڈاکٹر مور کہتے ہیں ان تین تاریکیوں کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان سے مراد پیٹ کی دیوار، رحم مادہ کا پردہ اور بچے دانی کی اندرونی جھلی ہے۔ ایک دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو علق (واحد علقہ ) سے پیدا کیا (العلق،96:2) عربی میں علق کا لفظ جونک کے لیے آیا ہے۔ ڈاکٹر مور اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ عرب میں پائی جانے والی جونک اور 24 دن کے جنین میں حیرت انگیز طور پر مشابہت پائی جاتی ہے مزید یہ کہ اس مرحلے پر جنین رحم کی دیوار سے جونک کی طرح لپٹ جاتا ہے۔ آگے کی ایک آیت کہتی ہے کہ یہ جونک نما مادہ بعد میں چبائی ہوئی چیز کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس مرحلے پر جنین کی شکل کی وضاحت کرنے کے لیے ڈاکٹر مور نے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی چیز تیار کی اور پھر اسے اپنے دانتوں سے چبایا اور پھر اسے بتایا کہ 28 روز کے جنین کی شکل ہو بہو ایسی ہوتی ہے اور اس پر جو نشانات پائے جاتے ہیں وہ بھی دانتوں کے نشانوں کے مماثل ہوتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر جسم کے چند ہی اعضاء کی شناخت ہوسکتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ صرف دل اور آنکھوں کے عدد سے کی پہچان ممکن ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مور نے کہا کہ آیات قرآنی کہتی ہیں کہ تیزی سے نکلنے والے مادہ منویہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader