عالم آخری کی تمثیل
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ اسی طرح آخرت کی دنیا پوری طرح یہاں موجود ہے۔ البتہ وہ ہمارے مشاہدہ میں اس وقت آئے گی جبکہ خدا اس کے ظہور کا حکم دے دے۔ سائنس میں اکثر کسی چیز کو "ماڈل" سے سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ دنیا گویا ایک قسم کا مادی ماڈل ہے جس کے ذریعہ ہم غیر مادی حقیقتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری دنیا ایک اعتبار سے بالاتر حقیقتوں کا آئینہ ہے، آدمی اگر سنجیدہ طور پر سوچے تو وہ اس کے اندر اپنے تمام سوالات کا جواب پالے گا۔ خدا، وحی اور آخرت غیب کی چیزیں ہیں۔ انسان اپنی موجودہ نگاہ سے ان کو نہیں دیکھ سکتا۔ مگر دنیا میں بہت سی چیزیں، بلکہ تمام اعلیٰ حقیقتیں وہ ہیں جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں۔ آدمی قرائن کی بنیاد پر ان کو مانتا ہے۔ یہی معاملہ خدا، وحی اور آخرت کا بھی ہے۔ یہ چیزیں بلاشبہ موجودہ آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں۔ مگر ایسے واضح قرائن موجود ہیں جو ہم کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ چیزیں حقیقی ہیں اور یقینی طور پر وہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو وہ ان کو مانے بغیر نہیں رہ سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader