Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

نشر گاہوں سے نشر ہونے والے پروگرام کو نہیں سن پاتا۔ لوگ دنیوی نشر گاہوں کی نشریات کو سننا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ ریڈیو اور ٹرانسٹر کو بے حد عزیز رکھتے ہیں۔ آج ساری دنیا میں کوئی بھی گھر اس سے خالی نہیں۔ اسی طرح اگر آدمی کو خدائی نشریات کی اہمیت معلوم ہو جائے تو وہ پیغمبر کو دل و جان سے چاہنے لگے۔ وہ ان باتوں کو انتہائی توجہ اور اہتمام کے ساتھ سنے جو پیغمبر نے بتائی ہیں۔ پیغمبر کے معاملہ کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا ریڈیو کے معاملہ کو سمجھنا۔ پیغمبر اسی قسم کے ایک کام کو الہامی طور پر کر رہا ہے جس کو عام ریڈیو سٹ مشینی طور پر انجام دیتا ہے۔ عالم آخری کی تمثیل ایک کمرے میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ بول رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ وہ اپنے سامنے ایک پوری دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔ مگر یہ وہی دنیا ہے جو محسوس طور پر نظر آتی ہے۔ بظاہر محسوس دنیا کے سوا کوئی اور دنیا نہیں جو وہاں اپنا وجود رکھتی ہو۔ اتنے میں ایک شخص سامنے رکھے ہوئے ٹیلی وزن سیٹ کو چلا دیتا ہے۔ اچانک اس کے شیشہ پر ایک اور دنیا دکھائی دینے لگتی ہے جو ابھی تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ چلتے پھرتے انسان ان کی آوازیں، ان کے مکانات، ان کی کارگزاری سب آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ آخرت کا نظریہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ دنیا کے پرے ایک اور دنیا ہے۔ یہ دوسری دنیا اسی طرح ایک مکمل دنیا ہے جس طرح ہماری موجودہ نظر آنے والی دنیا۔ ٹیلی وزن گویا اس نظریہ کی عملی تصدیق ہے۔ ٹیلی وزن کا تجربہ بتاتا ہے کہ کس طرح موجودہ محسوس دنیا کے اندر ایک اور دنیا موجود ہو سکتی ہے۔ ٹیلی وزن کی دنیا ہمارے گرد و پیش پوری طرح موجود ہوتی ہے مگر وہ صرف اس وقت ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے جبکہ ٹیلی وزن سٹ کو چلا یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page