عقلیات اسلام
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام سائنس دانوں کا یہ مشترک عقیدہ ہے کہ کائنات میں ریاضیاتی قطعیت کی حد تک نظم اور تربیت ہے۔ ایک سائنس داں اپنی تحقیق پر اس وقت بالکل مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ وہ اپنی تحقیق کو ریاضیاتی سانچے میں ڈھال لے۔ ریاضیاتی تصدیق سائنس داں کے نزدیک اس کے نظریہ کی صداقت کا آخری ثبوت ہے۔ سائنس دانوں کی جماعت کائنات کے مطالعہ میں ریاضی کو اسی طرح استعمال کرتی ہے جس طرح سناروں کی جماعت سونے کے کاروبار میں کسوٹی کو۔ سنار کسوٹی کی تصدیق کے بعد سونے کا سونا ہونا مان لیتا ہے۔ اسی طرح سائنس داں ریاضی کی تصدیق کے بعد نظریہ کا صحیح نظریہ ہونا تسلیم کر لیتا ہے۔ ریاضی اور کائناتی نظام کے درمیان یہ مطابقت کیوں ہے۔ بعض سائنس دانوں نے یہ سوال اٹھایا ہے۔ ان کے ایک طبقہ نے اس کا براہ راست جواب دیے بغیر اس کو مزید ایک سوال پر ختم کر دیا ہے۔ کیا کائنات ایک ریاضیاتی ذہن کی تخلیق ہے : Was the universe created by a mathematical mind? کچھ سائنس دانوں نے اس کا مثبت جواب دیا ہے۔ سرجیمز جينز فلکی طبیعیات کا ایک مشہور عالم ہے۔ اس نے 1932 میں کہا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا تھا : In 1932, Sir James jeans, an astrophysicist said: "the universe appears to have been designed by a pure mathematician. Encyclopaedia Britannica (1984) vol.15, p. 531. کائنات اور انسان موجودہ اندازہ کے مطابق کائنات میں کم از کم دس ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں۔ ان میں سے اکثر ستارے ہمارے سورج سے بہت زیادہ گرم اور بہت زیادہ بڑے ہیں جبکہ ہمارا سورج اتنا بڑا ہے کہ اس سے زمین جیسے بارہ لاکھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader