کائنات اور انسان
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے بنائے جاسکتے ہیں۔ یہ ان گنت متحرک ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ دوری پر ہیں جیسے بحر الکاہل میں بکھرے ہوئے چند سمندری جہاز۔ اس ناقابلِ قیاس حد تک بڑی دنیا میں زمین کا چھوٹا سا کرہ ایک انتہائی نادر استثناء ہے جہاں پانی اور ہوا اور وہ دوسری چیزیں ہیں جو انسان جیسی مخلوق کے لیے زندگی کا سامان بن سکیں ــ یہ دنیا اپنی ساری عظمتوں اور حکمتوں کے باوجود انسان کے بغیر بالکل بے معنی ہے۔ مگر خود انسان کی زندگی اتنی زیادہ بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ساری کائنات میں بظاہر اس سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ انسان اگر نہ ہو تو یہاں کوئی آنکھ نہ ہوگی جو دنیا کی رنگینیوں کو دیکھے اور کوئی کان نہ ہوگا جو اس کے نغموں کو سنے اور کوئی دماغ نہ ہوگا جو اس کی حکمت اور معنویت کو پائے۔ یہ دنیا ایک عظیم ترین آرٹ ہے مگر انسان کے بغیر وہ ایک ایسا آرٹ ہے جس کا کوئی جاننے والا نہیں۔ جس کی کوئی داد دینے والا نہیں۔ مگر خود انسان کی حقیقت کیا ہے۔ زمین پر جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر شخص چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو انسان کی پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جا سکتا ہے جو لمبائی، چوڑائی اور بلندی میں ایک میل ہو۔ کائنات کی وسعتوں کے مقابلہ میں صندوق کس قدر چھوٹا ہے۔ پھر اگر اس کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں اس طرح گم ہو جائے گا جیسے بھری ہوئی بالٹی میں سرسوں کا ایک دانہ۔ صدیاں گزر جائیں گی، نسل انسانی اپنے مادی کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی۔ دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان جیسی کوئی مخلوق آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح طوفان آتے رہیں گے۔ سورج اسی طرح چمکتا رہے گا۔ زمین کا کرہ بدستور اپنے محور پر گھومتا رہے گا۔ کائنات کی لامحدود پنہائیوں میں پھیلی ہوئی ان گنت دنیا ئیں اس حادثہ کو بس اتنی ہی اہمیت دیں گی جیسے زمین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader