Urdu book · عقلیات اسلام

خارجی ہدایت کی ضرورت

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ انسان اپنے موجودہ حواس کے تحت کسی ایسی ہی چیز کو قطعیت کے ساتھ جان سکتا ہے جو ہماری نسبت سے اپنا کوئی معروضی مقام (objective status) رکھتی ہو۔ جب کہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں معروضی اقدار (objective values) کا کوئی وجود نہیں۔ انسان اپنی زندگی کی تشکیل کے لیے جو بھی قدم اٹھاتا ہے، فوراً دو سوال اس کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں — اس کے عمل کا نقطۂ آغاز (starting point) کیا ہو اور یہ کہ اس کے عمل کی حدود (limitations) کیا ہیں۔ ان دونوں سوالات کے جواب پر ہی اس کے عمل کی صحت موقوف ہے۔ مگر انسان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے وہ ان دونوں سوالات کا ٹھیک ٹھیک جواب معلوم کر سکے۔ مثال کے طور پر عورت مرد کے باہمی تعلق کے مسئلہ کو لیجیے۔ دورِ جدید کے انسان نے اس معاملہ کا نقطۂ آغاز دونوں جنسوں کے درمیان کلی مساوات کو سمجھا۔ مگر طویل تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ایسی حیاتیاتی اور نفسیاتی رکاوٹیں ہیں کہ موجودہ نظامِ تخلیق کے باقی رہتے ہوئے دونوں کے درمیان کلی مساوات ممکن ہی نہیں۔ اس طرح غلط نقطۂ آغاز سے چلنے کی وجہ سے نہ صرف بیشمار انسانی وسائل ضائع ہوگئے بلکہ ایسے نئے نئے سماجی اور خاندانی مسئلے پیدا ہو گئے جن کا کوئی حل اب انسان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اسی طرح اٹھارویں صدی میں مشینی طاقت کی دریافت کے بعد جب جدید صنعتی نظام وجود میں آ یا تو لوگوں نے دیکھا کہ کارخانہ کی ملکیت اب سادہ معنوں میں صرف ملکیت نہیں رہی بلکہ اقتصادی استحصال کے ہم معنی ہوگئی ہے۔ اس سے روایتی افکار کے خلاف بغاوتی پیدا ہوئی جو بالآخر یہاں تک پہنچی کہ خود انفرادی ملکیت ہی کو سرے سے منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم آ بادنیا کے تقریباً نصف حصہ پر آدھی صدی تک تجربہ کرنے کے بعد آخری بات جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page