خارجی ہدایت کی ضرورت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو معلوم ہوئی وہ یہ کہ تنسیخ ملکیت محض ردعمل کے جذبات کے تحت ایک انتہا پسندانہ کارروائی تھی جس نے دوسرا شدید تر استحسالی نظام وجود میں لانے کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کیا۔ اب تمام دنیا کے اہل فکر یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ شاید زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ ملکیتوں کی تنسیخ کے بجائے استحصال کی تنسیخ کی جاتی۔ ایک اور مسئلہ ہے جو مذکورہ بالا دونوں مسئلوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ تمام دوسرے حیوانات کے مقابلہ میں انسان کے اندر ایک حیرت انگیز داعیہ یہ ہے کہ وہ کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے، وہ صرف آج پر قانع نہیں۔ اسی کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری موجودہ زندگی انتہائی مختصر ہے اور اس کی خوشیاں اور کامیابیاں بے حد معمولی ہیں۔ جب ہم وہ سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں تو موت کا وقت قریب آ جاتا ہے۔ حالیہ دور میں تکنیکی انقلاب کے بعد جب انسان نے دیکھا کہ اس عیش و راحت کے ایسے دروازے کھل گئے ہیں جو پچھلے انسان نے خواب میں بھی نہ دیکھے تھے تو سمجھ لیا گیا کہ بس یہی موجودہ زندگی ہی سب کچھ ہے اور یہاں عزت اور خوشی حاصل کر لینا ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔ مگر انسان ایک صدی بھی اس نئے امکان سے محظوظ نہ ہو سکا تھا کہ نئے نئے مسائل مثلاً صنعت کی پیدا کردہ کثافت (industrial pollution) نے اس کی زندگی کو بالکل تلخ کر دیا۔ ایک طرف ’’اینٹی سائنس‘‘ تحریک مختلف شکلوں میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ دوسری طرف نفسیاتی تحقیقات نے یہ ثابت کرنا شروع کیا کہ زندگی ایک ایسا مظہر ہے جو جسمانی موت کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتا ہے حتیٰ کہ علم الموت (thanatology) کے نام سے سائنس کی ایک نئی شاخ وجود میں آگئی ہے جو اس امکان کی تحقیق میں سرگرم ہے کہ کیا موت اور زندگی دونوں ایک دوسرے کے حصے (parts) ہیں۔ ان واقعات نے دوبارہ انسان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader