عقلیات اسلام
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
مشاہدہ دنیا میں تحلیل ہو گیا ہے۔ اب سائنس میں عام طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ آخری حقیقت ایک ایسی لطیف شے ہے جو دیکھی نہیں جاسکتی۔ چنانچہ اب کائنات کی تشریح، کوئی ان الفاظ میں کرتا ہے کہ یہ امکانی لہریں (waves of probabilities) ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ معروف معنوں میں کوئی شے نہیں بلکہ وقوعات (events) کا ایک سلسلہ ہے۔ کوئی اس کو عالم خیال (universe of thought) کہتا ہے۔ کوئی اس کو بھوت (ghost) سے تشبیہ دیتا ہے کوئی اس کو محض ایک تشکیل (construction) بتاتا ہے۔ کوئی اس کو سایوں کی دنیا (world of shadows) کہتا ہے۔ برٹرینڈ رسل نے ان سارے افکار کو ایک طنزیہ جملہ میں اس طرح سمیٹا ہے: Thus matter has become altogether too ghostly to be used as an adequate stick with which to beat the mind. مادہ اس طرح ایسا بھوت بن گیا ہے جو ذہن کو ہانکنے کے لیے ایک ڈنڈا نہیں بن سکتا۔ وہ مزید لکھتا ہے: ”وہ چیز جس کو اب تک ہم اپنا جسم کہتے رہے ہیں، وہ در حقیقت بڑی دیدہ ریزی سے بنائی ہوئی ایک سائنسی تشکیل (construction) ہے جس کی کوئی طبیعیاتی حقیقت نہیں پائی جاتی۔“ خلاصہ برنہار باونک کا یہ کہنا کہ ”سائنس مذہب کے راستہ پر“ جارہی ہے، اوپر کی تفصیلات سے واضح ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا دریا دوبارہ وہیں پہنچ گیا جہاں سے اس نے مذہب کو چھوڑا تھا۔ یعنی یہ کہ کائنات اپنی آخری حقیقت کے اعتبار سے ایک غیر مادی واقعہ ہے، نہ کہ صرف بے جان اور بے شعور مادہ کا بے معنی رقص۔ مزید یہ کہ ہماری دنیا میں جو اسباب کام کر رہے ہیں وہ امکانی طور پر بہت سے مختلف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader