سائنس مذہب کے راستہ پر
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
ناکامی‘ ’مذہب و سائنس میں مصالحت‘ وغیرہ۔ Bertrand Russell, Modern Science and Philosophy. حتیٰ کہ بر نہارڈ باونک(Bernhard Bawink) نے جدید طبیعیات پر اپنی کتاب کا نام ہی رکھ دیا ہے’’ سائنس مذہب کے راستہ پر‘ ‘: Modern Science on the Path of Religion ایڈنگٹن کے الفاظ میں’’ کائنات کا وہ نظریہ جوکشش جیسے ان دیکھے قانون کی کار فرمائی کو مانتا ہے ، کیا اس سے کچھ بھی زیادہ سائنسی ہو سکتا ہے جو وحشی انسان ہر اس چیز کو جس کو وہ کچھ پر اسرار پاتے ہیں ، ان دیکھے دیوی دیوتاؤں(demons) کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ The Nature of Physical World. p.309 سائنس کی ترقی کے بعد جب مشاہدہ کے جدید ذرائع انسان کے ہاتھ میں آئے تو انسان اس غلط فہمی میں پڑ گیا کہ وہ ہر چیز کو دیکھ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نے دعویٰ کر دیا کہ وہ چیز جو ہمارے’’ خ خورد بینی‘‘ یا’’ دور بینی‘‘ مشاہدات میں نہ آئے، وہ سرے سے کوئی وجود ہی نہیں رکھتی۔ نیوٹن(1727-1642ء) اور آئن سٹائن(1954-1879ء) کے درمیان ایک پورا دور گزرا ہے جبکہ یہ تصور یقین کی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ مگر آئن سٹائن کے بعد جو دور شروع ہوا ہے، اس کے بعد سائنس نے اپنا یہ یقین کھو دیا ہے۔ اب یہ امر بجائے خود مشتبہ ہو گیا ہے کہ یہ عالم معروضی (objective) ہے یا داخلی (subjective)۔ یعنی کائنات کا کوئی خارجی وجود ہے جس کو دیکھا جا سکتا ہے یا وہ صرف ہمارے اندرونی احساسات کا کرشمہ ہے۔ جبکہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ذہن واحساس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔ اصل موجود چیز مادہ ہے اور ذہن واحساس صرف اس مادہ کی اضافی پیداوار ہیں۔ 19ویں صدی کے آخر تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر چیز کی آخری حقیقت ایٹم ہے اور ایٹم چھوٹے چھوٹے’’ ذرات‘‘ ہیں جن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد ایٹم ناقابل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader