Urdu book · عقلیات اسلام

موت کے اس پار

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کے اس پار ستارے اور سیارے کبھی اپنے مقررہ راستے سے نہیں بھٹکتے۔ درختوں اور پہاڑوں کے سامنے کبھی یہ مسئلہ نہیں آتا کہ وہ اپنی زندگی کے نظام کو کس طرح بہتر بنائیں۔ کسی جانور کو کبھی یہ سوال پریشان نہیں کرتا کہ وہ اپنی غیر حاصل شدہ تمناؤں کو کیسے پورا کرے۔ انسان کے سوا جتنی چیزیں اس کائنات میں ہیں، سب ویسی ہی ہیں جیسا کہ انھیں ہونا چاہیے۔ معلوم دنیا میں صرف انسان ہے جو اس احساس سے دوچار ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے، اس کو حاصل نہیں کر سکتا اور نہ موجودہ دنیا میں کبھی اس کا حصول ممکن ہے۔ ہمارے موجودہ دنیا کے درمیان اس تضاد کو ہمیشہ لوگوں نے محسوس کیا ہے۔ عام انسان صرف یہ سوچتا ہے کہ وہ بیماری، حادثہ، بڑھاپا، موت سے آزاد زندگی پائے مگر وہ اسے پا نہیں سکتا۔ علما اور مفکرین زیادہ گہرائی تک جاتے ہیں اور زیادہ دور رس قسم کے ناموافق پہلوؤں کا انکشاف کرتے ہیں جو انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان فیصلہ کن طور پر حائل ہیں۔ انسان خلاؤں کو ناپتا ہے اور اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ مگر وہ کس قدر عاجز اور حقیر ہے، اس کو ایک مثال میں دیکھئے۔ زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جا سکتا ہے جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو وہ پانی کی گہرائی میں پہنچ کر گم ہو جائے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی مگر نسل انسانی دوبارہ زمین پر چلتی پھرتی دکھائی نہ دے گی ۔ دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں انسان کی قسم کی کوئی مخلوق آباد تھی۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا۔ کره ارض اپنے محور پر بدستور گھومتا رہے گا۔ کائنات کی لامحدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی بے شمار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page