موت کے اس پار
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا ئیں اتنے بڑے حادثہ کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گے۔ مدتوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔ سر جیمز جینز (1946-1877) کائنات کی بے پناہ وسعت کے مقابلے میں انسان اور اس کے وطن (زمین) کی معمولی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ریت کے ذرہ کے ایک خورد بینی ٹکڑے پر کھڑے ہو کر ہم کائنات کی فطرت اور اس کے مقصد کو معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ زمان و مکان کے اندر ہمارے وطن (زمین) کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہمارا پہلا تاثر کچھ دہشت ناک قسم کا ہوتا ہے۔ ہم کائنات کو دہشت ناک پاتے ہیں اس کے وسیع ناقابل فہم فاصلوں کی وجہ سے، دہشت ناک اس کے لامعلوم حد تک لمبے پھیلے ہوئے وقت کی وجہ سے جس کے مقابلے میں انسانی تاریخ محض پلک جھپکانے کے بقدر معلوم ہوتی ہے، دہشت ناک ہماری انتہا درجہ کی تنہائی کی وجہ سے، اور خلا میں ہمارے وطن کے مادی طور پر بالکل بے حقیقت ہونے کی وجہ سے ــــ ساری دنیا کے سمندروں میں پائے جانے والے ریت کے ذروں میں سے ایک ذرہ کا دس لاکھواں حصہ۔ مگر ان سب سے بڑھ کر کائنات کو ہم اس لیے دہشت ناک پاتے ہیں کہ وہ ہماری جیسی ایک زندگی کے معاملہ میں غیر جانب دار ہے: خدمات، حوصلے، کامیابیاں، آرٹ اور مذہب، سب اس کے منصوبے میں اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ شاید ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری جیسی زندگی کی دشمن ہے۔ کیوں کہ خالی خلا کا بیشتر حصہ اس قدر سرد ہے کہ تمام زندگی اس کے اندر منجمد ہو جائے گی۔ خلا کے اندر مادہ کا بیشتر حصہ اس قدر گرم ہے کہ اس کے اوپر زندگی کا وجود ناممکن ہے۔ خلا خم دار ہے اور فلکیاتی اجسام پر مسلسل مختلف قسم کی ریڈیائی بمباری ہوتی رہتی ہے، جن میں سے اکثر غالباً زندگی کے لیے مخالف یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader