ایک واقعہ دو انجام
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
’’اس پرچہ کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سولائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تا کہ جس حقارت سے سولائزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قوم کہلائیں۔‘‘ سرسید جب ترقی کا تصور کرتے تو ان کے ذہن میں ’’زرق برق وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان‘‘ ہوتے تھے۔ ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچا سکے۔ سرسید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بجا طور پر ’’اینگلومحڈن کلچر‘‘ کا نام دیا ہے۔ کمال اتاترک (1938-1881ء) جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے، وہ اس معاملے میں سرسید سے بھی آگے تھے۔ ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال اتاترک کا مقصد کیا تھا، اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتا ہے جو اس مہم کو وہاں دیا گیا۔ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ ’’غرب دوغرو‘‘ تھا، جس کے معنی ترکی زبان میں ــ ’’سمت مغرب میں سفر‘‘ کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے کے لیے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیے گئے گویا ریاست سے بغاو ت کے مجرم ہوں۔ اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے، اس کو مسلمانوں کے اندر رائج کرنے کی انہوں نے زیادہ کوشش نہیں کی۔ سرسید نے تو صراحتاً مسلمانوں کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مخالفت کی اور ’’اعلیٰ درجہ کی دماغی تعلیم‘‘ کو سب سے مقدم قرار دیا۔ یہی اس زمانہ میں تعلیم جدید کے حامیوں کا عام نقطہ نظر تھا۔ ان حضرات نے ساری توجہ صرف اس پر دی کہ ایک ایسا گروہ پیدا ہو جائے جو مغربی تمدن اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader