Urdu book · عقلیات اسلام

ایک واقعہ دو انجام

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

فرانس کن راہب راجر بیکن (1294-1214ء) جو اپنے وقت کا مشہور انگلستانی عالم تھا، اس نے جب عربی زبان کی اہمیت پر زور دیا تو آکسفورڈ کے علماء چلا اٹھے ”بیکن مسلمان (Saracen) ہوگیا۔“ مگر اس طرح کی مخالفتوں کے باوجود مسلمان کی زبان اور ان کے علوم سیکھنے کا رجحان بڑھتا رہا۔ مسلم محققین کے حاصل کو لے کر یورپ نے اپنی کوشش سے اس میں اضافے کیے اور اتنی ترقی کی کہ تاریخ میں پہلی بار قوت کا معیار بدل دیا اور بالآخر مسلمانوں کو ہر میدان میں شکست دے کر علم و عمل کی پوری دنیا کا مالک بن گیا۔ جدید مورخین نے تقریباً متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشاتہ ثانیہ کا اہم ترین محرک وہ علوم تھے جو مسلمانوں کی معرفت یورپ تک پہنچے (ویسٹرن سو یلائزیشن، اڈورڈ میکنال برن)۔ اس کے پانچ سو برس بعد تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ یورپ کی ترقی اور عروج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپ کے علوم و فنون کو سیکھیں۔ مگر یہاں اس رجحان کا محرک اس سے بالکل مختلف تھا جو یورپ کی تاریخ میں ہمیں نظر آتا ہے۔ سرسید احمد خان (1898-1817ء) جو پروفیسر گب کے الفاظ میں اسلام میں پہلی بدت پسند تنظیم (modernist organisation) کے بانی تھے۔ انہوں نے 1875ء میں علی گڑھ کالج قائم کیا اور اس پر اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ یہاں تک کہ 1930ء میں وہ یونیورسٹی بن گیا، وہ یورپی طرز کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ ان کا مقصد اس تعلیم سے کیا تھا اس کی ترجمانی ان کے رفیق خاص مولانا حالی نے ان الفاظ میں کی ہے: ”حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں“ سرسید نے جب انگلستان سے واپس آ کر دسمبر 1870ء میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انہوں نے پہلے پرچہ کے شروع میں لکھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page