Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی ترقیوں کا دروازہ انسان کے اوپر بند رہتا ، جیسا کہ اس سے پہلے وہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ سائنسی تحقیق اور ترقی کے سلسلے میں توحید کی اس اہمیت کو آرنلڈ ٹائن بی (1889-1975ء) نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا ہے (ظہور اسلام، صفحہ 146)۔ سائنس اسلامی انقلاب سے پیدا ہوئی توحید کی بنیاد پر جو فکری انقلاب آیا اس کے بہت سے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ انسان عالم فطرت کو اس نظر سے دیکھنے لگا کہ وہ بے بس مخلوق ہے اور انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو جانے اور اس کو اپنے کام میں لائے۔ اس ذہن کا آغاز اموی دور (661-750ء) میں دمشق میں ہوا۔ قدیم یونانی حکماء کے یہاں کیمیا چاندی سے سونا بنانے کے خبط کا نام تھا۔ خالد بن یزید بن معاویہ غالباً پہلے شخص ہیں جنھوں نے کیمیا کو ایک طبعی علم کی حیثیت سے ترقی دینے کی کوشش کی۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں اس شعبہ علم نے بغداد میں مزید فروغ پایا اور اسپین اور سسلی تک پھیلتا چلا گیا۔ اس زمانہ میں مسلمان علمی اور تمدنی ترقی میں دنیا کی تمام قوموں سے آگے بڑھے ہوئے تھے۔ تاریخ کے اس دور کو یورپ کے مورخین تاریک دور (Dark Ages) کہتے ہیں۔ مگر وہ صرف یورپ کے لیے تاریک تھا، نہ کہ مسلم دنیا کے لیے۔ ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا کا مقالہ نگار ’’ڈارک ایجز‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے : The term dark 'ages' cannot be applied to the splendid Arab culture which spread over North Africa and into Spain. تاریک دور کی اصطلاح شاندار عرب کلچر پر چسپاں نہیں ہوتی جو اس زمانہ میں شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیلا ہوا تھا۔ شرک کس طرح سائنسی تحقیق میں رکاوٹ تھا، اس کی وضاحت کے لیے یہاں ہم ایک مثال نقل کریں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page