سائنس اسلامی انقلاب سے پیدا ہوئی
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم یونان میں زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں دو نظریے پیش کیے گئے تھے۔ ایک تھا ار ستارکس کا نظریہ جس میں زمین کو سورج کے گرد گھومتا ہوا فرض کیا گیا تھا۔ دوسرا تالمی کا نظریہ جس کے مطابق سورج زمین کے گرد گھوم رہا تھا۔ پہلے نظریہ کے مطابق زمین بظاہر گول تھی اور دوسرے نظریہ میں چپٹی۔ قسطنطین (337-272ء) کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد جب مسیحیوں کو یورپ میں غلبہ ہوا تو انھوں نے تالمی کے نظریہ کی سرپرستی کی اور دوسرے نظریہ کو بزور دبا دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسیحیت نے حضرت مسیح کو خدا فرض کر لیا تھا۔ اس عقیدہ کے مطابق زمین کو یہ تقدس حاصل تھا کہ وہ خداوند کی جنم بھومی ہے اور جو کرہ خداوند کی جنم بھومی ہو وہ کسی دوسرے کرہ کا تابع (satellite) کس طرح ہو سکتا تھا۔ زمین کو اس طرح مقدس سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بارے میں تحقیقی کام آگے نہ بڑھ سکا۔ مشرکانہ مذہب اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کی مزید تفصیلی مثالیں ڈریپر (1811-1882ء) کی کتاب مذہب اور سائنس کا تصادم (Conflcit Between میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ Science and Religion) عباسی خلیفہ المامون (786-833ء) کے زمانہ میں بیت الحکمت قائم ہوا اور حکومت کے خصوصی تعاون کے تحت دونوں قسم کے ترجمے عربی زبان میں کیے گئے۔ مسلمانوں نے جب اعتقادی پیچیدگی سے آزاد ہو کر دونوں نظریات کو جانچا تو ان کو پہلا نظریہ حقیقت سے قریب تر نظر آیا۔ خلیفہ المامون جو خود بھی بہت بڑا عالم تھا، اس نے اس مسئلہ کی اہمیت کو محسوس کیا۔ اس نے ہیئت و جغرافیہ کے عالموں کو حکم دیا کہ وہ زمین کو گول فرض کرتے ہوئے اس کا محیط (circumference) معلوم کریں اور اس کے لیے کسی کھلے میدان میں زمینی درجہ (terrestrial degree) کی لمبائی کی پیمائش کریں اور اس کے بعد اس سے زمین کی پوری گولائی کا اندازہ کریں۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے پاس آلات حساب کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader