اسلام میں سائنس کی اہمیت
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ کائنات کے قابلِ تجربہ پہلوؤں تک اپنے مطالعہ کو محدود رکھے_ مگر مومن اپنی عقل کے ساتھ نبوت کی رہنمائی کو تسلیم کیے ہوئے ہوتا ہے_ اس لیے وہ خواصِ اشیاء سے گزر کر حقائقِ اشیاء تک اپنے مطالعہ کو لے جاتا ہے_ وہ ”مخلوق‘‘ کو اس کے ”خالق‘‘ کے ساتھ شامل کر کے دیکھتا ہے_ یہ فرق مومن کے مشاہدۂ کائنات میں زبردست معنویت پیدا کر دیتا ہے_ اس کو ساری کائنات صفاتِ خداوندی کا ظہور نظر آنے لگتی ہے_ کائنات کو پاتے ہی وہ اس خدا کو بھی پالیتا ہے جس پر وہ پیغمبر کے واسطہ سے ایمان لایا ہے_ 2۔ قرآن میں کائناتی واقعات کو قرآنی پیغام کے حق میں بطور استدلال پیش کیا گیا ہے_ گویا قرآن میں جو بات نظری طور پر کہی گئی ہے ، کائنات اس کے حق میں واقعاتی دلیل ہے_ اس اعتبار سے پوری سائنس قرآن کا علم کلام ہے_ کیوں کہ سائنس کسی سائنس داں کے خود ساختہ علم کا نام نہیں بلکہ وہ خدا کی کائنات میں کام کرنے والے قوانین کی تلاش کا نام ہے_ ان قوانین کا جو حصہ بھی سائنس دریافت کرتی ہے وہ خدا کی کارفرمائیوں کی ایک جھلک ہوتی ہے، وہ خدا کی آیتوں میں سے ایک آیت (نشانی) کا انسانی علم میں آنا ہوتا ہے_ سائنس داں کے لیے سائنس علم برائے علم ہے یا زیادہ سے زیادہ علم برائے تعمیر دنیا_ مگر مومن کے لیے سائنس ایک علمی ہتھیار ہے جس سے وہ دعوتِ حق کی جدوجہد میں کام لیتا ہے، جس سے وہ اپنی بات کو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے_ 3۔ سائنس کا تیسرا پہلو، اسلامی نقطہ نظر سے، وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا۔ یعنی وہ موجودہ زمانہ میں قوت کی حیثیت رکھتی ہے_ اس لیے اسلام اور مسلمانوں کو سر بلند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سائنس کی قوت کو پوری طرح فراہم کیا جائے_ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ مسلمان سائنس کی تحقیق و تحصیل میں آگے بڑھیں، حتی کہ وہ اس میں امامت کا درجہ حاصل کر لیں_

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader