عقلیات اسلام
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریف نظر آئی۔ وہ اس کا دشمن بن کر کھڑا ہوگیا۔ تعلیمی مصلحین بلاشبہ غلطی پر تھے۔ مگر دینی نمائندوں سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ وہ مقصد اور استدلال دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہ دیکھ سکے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں نظر آتا کہ تعلیمی مصلحین جن علوم کی اہمیت کو آیت علم سے غلط طور پر ثابت کر رہے ہیں وہ آیت قوت (انفال ، 60: 8) سے بالکل درست طور پر ثابت ہورہی ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں اصل کام استدلال کی تصحیح ہے، نہ کہ خود مقصد کو باطل قرار دینا۔ اسلام میں سائنس کی اہمیت اسلام میں سائنس کی اہمیت کے متعدد وجوہ ہیں۔ یہاں چند چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے: 1- سائنس، سادہ طور پر، عالم حقائق کے مطالعہ کا نام ہے۔ قرآن میں یہی صفت اہل ایمان کی بتائی گئی ہے کہ وہ زمین و آسمان کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں: وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (3:191) ۔ اس اعتبار سے ایک سائنس داں وہی کام کرتا ہے جو ایک مومن کرتا ہے۔ تاہم دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ سائنس داں کا عمل صرف تحقیق کے لیے ہوتا ہے اور مومن کا عمل عبرت کے لیے۔ سائنس داں کے پیش نظر علم برائے علم ہوتا ہے اور مومن کے پیش نظر علم برائے مقصد۔ سائنس داں اضافہ علم پر مطمئن ہوتا ہے اور مومن اضافہ ایمان پر۔ ذہن کا یہ فرق دونوں کے طرزِ مطالعہ میں بہت بڑا فرق پیدا کردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنسداں اشیاء کی ماہیت کو چھوڑ کر صرف اشیاء کے خواص کے مطالعہ تک اپنے کو محدود رکھتا ہے۔ وہ اشیاء کی کارکردگی کو ان کی معنویت سے جدا کردیتا ہے۔ سائنس داں کو ایسا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ وہ صرف اپنی عقل کی رہنمائی میں کائنات کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اور انسان کو عقل قطعییت کے ساتھ صرف قابل تجربہ چیزوں کو دیکھ پاتی ہے، اس لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader