Urdu book · عقلیات اسلام

آخری بات

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

اور زمین کا فاصلہ ناپتے تھے۔ رات کو چاند کی روشنی اور دن کو سورج کی روشنی کی مدد سے وقت کا اندازہ کرتے تھے۔ عمارت کی کھڑکیاں ، دریچے اور دیواروں کے سوراخ خود بخود سال کا پورا کیلنڈر ترتیب دے دیتے تھے۔ قرون وسطیٰ میں ساری دنیا کا علمی اور تعمیری کام مسلمانوں کی علمی اور تعمیری ترقیوں کی نقل ہوتا تھا۔ چنانچہ مہاراجہ جے سنگھ کی رصد گاہ بھی عباسی رصد گاہوں کی نقل تھی۔ وہ ٹھیک اس انداز سے بنائی گئی تھی جیسی خلیفہ مامون رشید نے ایک ہزار سال پہلے بغداد میں بنوائی تھی۔ قدیم دور میں علم کی امامت مسلمانوں کو حاصل تھی۔ چنانچہ ساری دنیا میں ان کے طریقوں کی تقلید کی جاتی تھی۔ مگر بعد کے زمانہ میں ان کی غفلت سے امامت کا یہ مقام مغربی قوموں نے حاصل کر لیا۔ تین سو سال پہلے جب ایک شخص فلکیات کے مطالعہ کے لیے’’رصد گاہ‘‘بنانا چاہتا تو وہ بغداد کے نمونہ کی نقل کرتا تھا۔ مگر آج جب کسی ملک میں ’’رصد گاہ‘‘ تعمیر کی جاتی ہے تو اس کا نقشہ اور سامان مغرب کے ماہرین سے حاصل کیا جاتا ہے — یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں کی عزت و سر بلندی کا سفر ختم ہوا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمان دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔ نوٹ: یہ مضمون علی گڑھ کے آل انڈیا سیمینار بعنوان اسلام اور سائنس (12-11 نومبر 1980 ء) میں پیش کیا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page