Urdu book · عقلیات اسلام

قرآن کا فلسفہ

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کا فلسفہ غالباً 1970 کی بات ہے۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو ایک یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ اسلام کے فلسفیانہ فکر پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلام میں ثانوی عقلیت (secondary rationalism) ہے۔ اسلام میں ابتدائی عقلیت (primary rationalism) نہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اسلامی فکر کا آغاز وحی سے ہوتا ہے۔ آدمی پیشگی طور پر وحی کو مسلمہ صداقت مان کر سوچنا شروع کرتا ہے۔ جب کہ عام انسانی فلسفہ میں کوئی چیز پیشگی مسلمہ کے طور پر نہیں مانی جاتی۔ بلکہ تحقیق و جستجو کے بعد جو بات ثابت ہوتی ہے اس کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات بطور واقعہ درست ہے۔ مگر اس میں یہ اضافہ کروں گا کہ اس دنیا میں انسان کے لیے ثانوی عقلیت ہی ممکن ہے۔ ابتدائی عقلیت موجودہ دنیا میں انسان کے لیے قابل عمل اور قابل حصول نہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کو صرف محدود عقلی صلاحیت حاصل ہے۔ حقائق کی کائنات لامحدود ہے اور اس کے مقابلہ میں انسان کی عقل انتہائی محدود۔ اس لیے ابتدائی عقلیت کا اصول ایک آئیڈیل اصول تو ہو سکتا ہے مگر وہ قابل عمل اصول نہیں۔ خالص فنی اعتبار سے اسلام کی عقلیت اگر چہ ثانوی عقلیت ہے مگر وہ عام معنوں میں ادعائیت (dogmatism) کی قسم کی کوئی چیز نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حقیقت کے بارے میں ایک بیان (statement) دیتا ہے۔ اور اس کے بعد انسان سے یہ کہتا ہے کہ اس بیان کو واقعات معلومہ (Known facts) پر جانچ کر دیکھو۔ اگر تم پاؤ کہ یہ بیان واقعات معلومہ سے مطابقت رکھتا ہے تو تم کو مان لینا چاہیے کہ یہ عین درست ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page