سائنس کی گواہی
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
بائبل میں کثرت سے علمی غلطیاں ہیں۔ وہ اتنی واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔ جین گوٹن (Jean Guitton) نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بائبل کی علمی غلطیاں انسانی غلطیاں ہیں۔ کیوں کہ اس وقت انسان ایک بچہ کی مانند تھا، اور اس بنا پر وہ علمی حقائق سے بے خبر تھا: The scientific errors in the Bible are the errors of mankind, for long ago man was like a child, as yet ignorant of science (p.152). ایسی حالت میں محمد کے لیے کیسے ممکن ہوا کہ وہ قرآن کو مرتب کرتے ہوئے بائبل کی یا اپنے زمانہ کی غلطیوں کو قرآن سے حذف کر دیں۔ وہ ایسی کتاب تیار کریں جس میں استثنائی طور پر کوئی بھی علمی غلطی موجود نہ ہو (160)۔ مصنف یہ کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن محمد کی کتاب نہیں وہ ایک ماوراے انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔ علم کی تاریخ ہم کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے کہ قرآن میں اس قسم کی آیتوں کی موجودگی کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں: The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in Quran (p.188). قرآن کا یہ استدلالی پہلو قرآن کی اس آیت کی تصدیق ہے جو چودہ سو سال پہلے قرآن میں شامل کی گئی تھی ۔ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، آفاق میں بھی اور خود لوگوں کے اندر بھی ، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے (41:53)۔ جولوگ قرآن کو خدا کی کتاب ماننے کے لیے اس کی سائنسی دلیل چاہتے ہیں، ان کو ڈاکٹر ماریس بکائی کی مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن فنی معنوں میں سائنس کی کتاب نہیں، مگر قرآن جن عقائد کو ماننے کی دعوت دیتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader